سرینگر؍۱۴؍اکتوبر
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روز کہا کہ کشمیر میں اس کے لیے سیاسی ماحول سازگار ہو رہا ہے، کیونکہ نظریاتی محاذ پر پارٹی اپنی پوزیشن مضبوط بنا رہی ہے۔ پارٹی نے جموں و کشمیر میں آئندہ انتخابات پوری طاقت کے ساتھ لڑنے کا اعتماد بھی ظاہر کیا۔
بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا کے ممبر‘ ستیش پونیا، جو جموں و کشمیر کا انچارج مقرر کیے جانے کے بعد جموں میں پارٹی قیادت کے ایک اجلاس کی صدارت کرنے کے لیے یہاں پہنچے تھے، نے کہا کہ پارٹی مرکز کے زیر انتظام علاقے بھر میں اپنی تنظیمی بنیاد مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
پونیا نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’آج کشمیر وہی جگہ ہے جہاں لاکھوں لوگ ترنگا بڑے وقار اور احترام کے ساتھ لہراتے ہیں۔ کشمیر کے لوگوں نے نظریاتی طور پر بی جے پی کو اپنا لیا ہے۔‘‘
جموں و کشمیر کی سیاسی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے۔
پونیا نے کہا، ’’جہاں تک عمر عبداللہ حکومت کا تعلق ہے، اس کے کام کرنے کا طریقہ کشمیر کے لوگوں کے سامنے ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آنے والے وقت میں بی جے پی یہاں پوری طاقت کے ساتھ انتخابات لڑے گی اور عوام پارٹی کی بھرپور حمایت کریں گے۔‘‘
جموںکشمیر کے انچارج نے جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور فلاحی اسکیموں سمیت ترقیاتی اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر میں اپنی تنظیمی بنیاد کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
پونیا نے کہا، ’’آج کشمیر میں چناب پل سمیت پل تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ لوگوں کو آیوشمان بھارت، رہائشی سہولیات، اجولا اور دیگر کئی اسکیموں کے تحت مختلف سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ وہی کشمیر ہے جہاں اب لال چوک میں ترنگا وقار اور احترام کے ساتھ لہرایا جاتا ہے۔‘‘
بی جے پی لیڈرنے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ ان کے منفی بیانات گزشتہ۱۲ برسوں کے دوران مودی حکومت کی جانب سے کیے گئے کاموں کے تئیں ان کی مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
راجیہ سبھا کے رکن نے کہا، ’’گزشتہ۱۲ برسوں کے دوران مودی جی نے جس طرح سماجی اور طرزِ عمل میں تبدیلی لانے کے لیے کام کیا ہے، ان کا وژن محض ایک نعرہ نہیں ہے۔ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘ نے ملک کی ترقی، پیش رفت اور خودداری میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔‘‘
پونیا نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کے ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘ کے وژن نے مختلف خطوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لا کر قومی اتحاد کے تصور کو مضبوط بنایا ہے۔انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اپوزیشن، بالخصوص کانگریس، کو اس کی پالیسیوں اور طرزِ عمل کی وجہ سے عوام نے مسترد کر دیا ہے۔
جموں و کشمیر میں اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے پونیا نے کہا کہ وہ پارٹی تنظیم کو مضبوط بنانے اور عوامی مسائل کے ازالے کے لیے مقامی قیادت کے ساتھ تال میل قائم کرکے کام کریں گے۔
پونیا نے کہا، ’’یہ میری خوش قسمتی ہے کہ نظریاتی اور سیاسی طور پر میرا تعلق اس پارٹی سے ہے اور اسی وجہ سے پارٹی نے مجھے پنجاب اور جموں و کشمیر کی ذمہ داری سونپی ہے۔ میں یہاں ایک اچھے ساتھی کی حیثیت سے کام کرنے اور جموں و کشمیر میں پارٹی تنظیم کو مضبوط بنانے میں تعاون کرنے کی کوشش کروں گا۔‘‘
جموںکشمیر کے بی جے پی انچارج نے کہا کہ پارٹی قومی قیادت کی جانب سے سونپی گئی مہمات پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ اسمبلی کے اندر اور سڑکوں پر بھی عوامی مسائل اٹھائے گی۔
پونیا نے کہا، ’’آج میرا پہلا دن ہے۔ میں سبھی سے واقفیت حاصل کروں گا، ان کے خیالات اور آرا جانوں گا اور مقامی یونٹ کی ہدایات کے مطابق کام کروں گا۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









