نئی دہلی؍۱۳؍اکتوبر
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے منگل کو بیمسٹیک ممالک پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے، دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے اور منظم جرائم کے خلاف کارروائی کے لیے علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو خطے میں پناہ گاہیں قائم کرنے کا موقع نہ مل سکے۔
یہاں بیمسٹیک ممالک کے وزرائے داخلہ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
شاہ نے کہا کہ بیمسٹیک ممالک کے درمیان شراکت داری کی بنیاد اس اعتماد پر قائم ہے کہ ہر رکن ملک کے حفاظتی انتظامات دوسرے رکن ممالک کی سلامتی میں بھی معاون ثابت ہونے چاہئیں۔
وزیر داخلہ نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو پناہ دینے، ان کے ٹھکانے اور تربیتی مراکز قائم کرنے، وسائل جمع کرنے یا دوسرے رکن ممالک کے خلاف سرگرمیاں انجام دینے سے روکنے کے لیے تمام ممالک پر مشترکہ عزم اختیار کرنے پر زور دیا۔
شاہ نے رکن ممالک سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ اپنے قومی قوانین اور متعلقہ معاہدوں کے مطابق قانونی معاونت اور مجرموں کی حوالگی کے معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا تعاون مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوششوں کو تقویت دے گا۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو اہم قرار دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے موجودہ رابطہ اداروں کے ذریعے قابلِ عمل خفیہ معلومات کے تبادلے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت و منظم جرائم کے خلاف بہتر تال میل پر زور دیا۔
شاہ نے کہا کہ دہشت گردوں، ان کے ساتھیوں، جرائم پیشہ نیٹ ورکس، مالی ذرائع اور سرحد پار سرگرمیوں سے متعلق مصدقہ اور قابلِ عمل معلومات کا بروقت تبادلہ اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
منشیات کی اسمگلنگ کے مسئلے پر امیت شاہ نے کہا کہ کسی ایک ملک کی کوششوں سے اس لعنت کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا، ’’ہمیں پورے خطے کو شامل کرتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ منشیات سے حاصل ہونے والی غیر قانونی آمدنی منظم جرائم کو مالی طاقت فراہم کرتی ہے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ بنیادی کیمیائی مادوں کا غیر قانونی رخ موڑنا اور ڈارک ویب کے ذریعے لین دین اس چیلنج کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ خلیج بنگال کثیر شعبہ جاتی تکنیکی و اقتصادی تعاون کی پہل، جسے بیمسٹیک کہا جاتا ہے، بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، میانمار، نیپال، سری لنکا اور تھائی لینڈ پر مشتمل علاقائی تنظیم ہے۔
اس تنظیم کا مقصد خلیج بنگال سے متصل اور اس کے پڑوس میں واقع ممالک کے درمیان اقتصادی اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں)










