نئی دہلی، 9 اکتوبر (یو این آئی) الیکشن کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزام میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے حق میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے ہفتے کے روز جنتر منتر پر مجوزہ دھرنے اور مظاہرے کی دہلی پولیس نے اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
دہلی پولیس کی جوائنٹ کمشنر آف پولیس نوپور پرساد نے جمعہ کو پریس کانفرنس میں کہا کہ مظاہرے کے لیے مقررہ طریقہ کار کی پیروی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اجازت کے بغیر مظاہرہ کیا گیا تو اسے بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ سی جے پی کے شریک کنوینر سورو داس کی جانب سے مظاہرے کے سلسلے میں درخواست دی گئی تھی۔ پولیس کو یہ درخواست سات اکتوبر کو موصول ہوئی، جبکہ مقررہ رہنما خطوط کے مطابق کسی مظاہرے کے انعقاد کے لیے کم از کم 10 دن پہلے اطلاع دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنے کم وقت میں درخواست ملنے کی وجہ سے انتظامیہ کو مظاہرے کی اجازت دینے میں دشواری پیش آئی۔
جوائنٹ کمشنر آف پولیس نے کہا کہ سی جے پی کو ماضی میں بھی مظاہرے کی اجازت دی گئی تھی لیکن اس دوران پارٹی کی جانب سے مقررہ قانونی ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے اس وقت انتظامیہ کو دی گئی اپنی یقین دہانیوں کی بھی پاسداری نہیں کی۔ ماضی کے تجربے، مقررہ طریقہ کار پر عمل نہ کرنے اور موجودہ امن و قانون کی صورتحال کے پیش نظر اس بار اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پولیس افسر کے مطابق نئی دہلی علاقے میں بی این ایس ایس کی دفعہ 163 نافذ ہے۔ اس کے تحت عوامی نظم و نسق اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری انسدادی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ پولیس نے واضح کیا کہ بغیر اجازت مجوزہ مظاہرہ کرنے یا دفعہ 163 کے احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی۔ انتظامیہ نے مظاہرین سے مقررہ ضابطے اور قانونی احکام کی پاسداری کرنے کی اپیل کی ہے۔








