سرینگر؍۸؍اکتوبر
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) نے جمعرات کو ’’یوم سیاہ‘‘ مناتے ہوئے ایک روز قبل دہلی میں اپنے قومی رہنماؤں کے ساتھ کیے گئے مبینہ سلوک کے خلاف احتجاج کیا۔
کانگریس کارکنان یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں جمع ہوئے اور احتجاجی مارچ نکالنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے اسے ناکام بنا دیا۔
کانگریس کارکنوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نعرے لگائے۔
تاہم پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے مظاہرین کو مرکزی سڑک کی جانب مارچ کرنے سے روک دیا اور احتجاجی مارچ کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سری نگر کانگریس کے ضلعی صدر عادل فاروق نے کہا کہ پارٹی جمعرات کو ’’جمہوریت کے قتل‘‘ کے خلاف ’’یوم سیاہ‘‘ منا رہی ہے۔
فاروق نے کہا، ’’مودی۔شاہ حکومت کے احکامات پر کل جس طرح جمہوریت کا قتل کیا گیا۔۔۔ پارلیمنٹ کے سب سے سینئر سیاست دان اور عوام کی نمائندگی کرنے والے ہمارے کانگریس پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے، ہمارے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے ساتھ دہلی میں جس طرح کا سلوک کیا گیا، جس طرح جمہوریت کو ختم کیا جا رہا ہے، ہم ان تمام معاملات کے خلاف اور اپنی پارٹی کی آواز کی حمایت میں یوم سیاہ منا رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔فاروق نے کہا، ’’پوری قوم کو اس آمرانہ نظام سے نجات دلانے کے لیے ہماری پارٹی متحد ہے اور اسی تناظر میں ہم احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلے تھے۔‘‘تاہم انہوں نے کہا کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے انہیں احتجاج کرنے سے روک دیا۔
کانگریسی لیڈر نے الزام عائد کیا، ’’ہمارے ساتھیوں کے کپڑے پھاڑ دیے گئے۔ آپ نے خود دیکھا کہ ہم اپنے پرامن اور جمہوری حق کا استعمال کر رہے تھے، لیکن مودی۔شاہ حکومت ہمارے عوام پر آمرانہ نظام مسلط کر رہی ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










