’کثیر المقاصد جنگی طیاروں کے پروگرام کے تحت بھارتی فضائیہ کو ۱۱۴رافیل جنگی طیارے فراہم کرنے کی تجویز ہے‘
سرینگر؍۳؍اکتوبر
بھارتی فضائیہ کو اپنی کم ہوتی جنگی اسکواڈرن کی تعداد کو۳۰ سے نیچے جانے سے روکنے اور منظور شدہ۴۲ اسکواڈرن کی تعداد کی جانب پیش رفت کے لیے ہر سال۳۶ سے۴۰ طیارے اپنے بیڑے میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل‘ اے پی سنگھ نے ہفتہ کو یہ بات کہی۔
سنگھ نے مقامی طور پر تیار کردہ ’استرا‘ اور اس کے مختلف ورژن کے بصری حد سے باہر مار کرنے والے فضائی میزائلوں کی مجوزہ شمولیت کے ساتھ ساتھ زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے غیر ملکی میزائلوں کی اضافی کھیپ حاصل کرکے بصری حد سے باہر فضائی جنگی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے بھارتی فضائیہ کی جاری کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔
ایئر چیف نے یہ بات۸؍ اکتوبر کو منائے جانے والے۹۴ ویں یوم فضائیہ سے قبل میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
فضائیہ کی جنگی اسکواڈرن کی تعداد سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ایئر چیف مارشل سنگھ نے کہا کہ اگر منصوبہ بندی کے مطابق معاملات آگے بڑھتے ہیں تو فضائیہ سالانہ۳۰ سے۳۵ جنگی طیارے شامل کرنا شروع کرسکتی ہے۔انہوں نے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کی جانب سے سالانہ۲۴؍ایل سی اے ایم کے ون اے طیارے تک فراہم کرنے کے ہدف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ ہر سال۲۰ طیارے تیار کرتا ہے اور کثیر المقاصد جنگی طیاروں کا معاہدہ رواں سال کے اختتام تک حتمی شکل اختیار کرلیتا ہے تو سالانہ تقریباً۳۲ طیارے فضائیہ کے بیڑے میں شامل ہوں گے۔
کثیر المقاصد جنگی طیاروں کے پروگرام کے تحت بھارتی فضائیہ کو سالانہ تقریباً۱۲ طیارے فراہم کیے جائیں گے اور اس پروگرام میں۱۱۴ رافیل جنگی طیارے حاصل کرنے کی تجویز شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مزید۱۲ سکھوئی-۳۰ طیارے حاصل کرنے کے مجوزہ معاہدے کو بھی شامل کیا جائے، جن میں سے ہر سال چھ طیارے فراہم کیے جائیں گے، تو تمام منصوبے توقع کے مطابق آگے بڑھنے کی صورت میں سالانہ طیاروں کی شمولیت کی تعداد۳۰ سے بڑھ کر۳۵ سے۴۰ تک پہنچ سکتی ہے۔انہوں نے کہا، ’’لہٰذا ہمیں امید ہے کہ یہ تمام چیزیں عملی شکل اختیار کریں گی اور ہم ترقی کی وہ رفتار حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے جو ہم نے اپنے لیے مقرر کی ہے۔‘‘
ایئر چیف نے کہا کہ فضائیہ کے بیڑے میں جنگی طیاروں کی تین سے چار اقسام کا امتزاج رکھنا دانش مندی ہے تاکہ مختلف طیارے مختلف نوعیت کے کردار مؤثر انداز میں انجام دے سکیں۔انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں بھارتی فضائیہ کے پاس ایل سی اے تیجس ایم کے ون اے، ایل سی اے ایم کے۲ ، فرانسیسی رافیل اور مقامی طور پر تیار کیے جانے والے پانچویں نسل کے جنگی طیارے ایڈوانسڈ میڈیم کامبیٹ ایئرکرافٹ (اے ایم سی اے) کا متوازن امتزاج ہوگا۔
پاکستان کی جانب سے چین کے پانچویں نسل کے جے-۳۵اسٹیلتھ جنگی طیارے حاصل کرنے کی اطلاعات کے بارے میں سوال پر ایئر چیف مارشل سنگھ نے کہا کہ یہ تشویش کا باعث ہے۔
ایئر چیف مارشل نے کہا، ’’کیا یہ ایسی صورتحال ہے جس کا کوئی توڑ نہیں؟ میں اس سے اتفاق نہیں کروں گا۔ ہمارے پاس ضروری صلاحیتیں موجود ہیں‘ یہ صرف ایک طیارے یا ایک پلیٹ فارم کا معاملہ نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ اسے پورے نظام کے ساتھ کس طرح مربوط کیا جاتا ہے۔‘‘
سنگھ نے کہا، ’’پاکستان کے پاس ماضی میں بھی دیگر پلیٹ فارم موجود رہے ہیں، تاہم آپریشن سندور کے دوران وہ ان کے ذریعے کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کرسکے۔ اسی طرح اگر ہم ان پلیٹ فارموں کو مؤثر انداز میں اپنے پورے نظام کے ساتھ مربوط کرتے ہیں جنہیں ہم خرید رہے ہیں اور فضائیہ میں شامل کررہے ہیں تو ہمیں اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے قابل ہونا چاہیے، کم از کم اس وقت تک جب تک وہ نئے طیاروں کو اپنے نظام کے ساتھ مکمل طور پر مربوط نہیں کرلیتے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اے ایم سی اے پروگرام کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور اگر اس میں تاخیر ہوتی ہے تو متبادل فیصلے کیے جانے چاہئیں۔
ایئر چیف مارشل نے یہ بھی واضح کیا کہ روس نے ایس یو-۵۷جنگی طیارے کی پیشکش کی ہے، تاہم ابھی تک اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہمارے مخالفین پانچویں نسل کے جنگی طیارے حاصل کررہے ہیں تو پانچویں نسل کے طیارے کی ضرورت پر غور کرنا ہوگا۔
بھارتی فضائیہ کی بصری حد سے باہر مار کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے حوالے سے ’دی انڈین ایکسپریس‘ کے سوال کے جواب میں ایئر چیف نے کہا کہ ’استرا‘ اور اس کے ایم کے۲ ؍اور ایم کے۳ سمیت تین اقسام اس وقت تیاری یا تحقیق و ترقی کے مختلف مراحل میں ہیں۔
’استرا‘ بصری حد سے باہر مار کرنے والا فضائی میزائل پہلے ہی پیداوار میں ہے، جبکہ ایم کے۲؍اس وقت تحقیق و ترقی کے درمیانی مرحلے میں ہے اور ایم کے۳؍ابتدائی تحقیق و ترقی کے مراحل میں آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فضائیہ زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی اضافی کھیپ غیر ملکی ذرائع سے حاصل کرنے کی بھی کوشش کررہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بھارت روسی آر-۳۷ایم انتہائی طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی میزائل اور فرانسیسی میٹیور میزائلوں کی اضافی کھیپ حاصل کرنے پر بھی غور کررہا ہے۔
آپریشن سندور کے گزشتہ سال مئی میں کیے جانے کے بعد سے بھارتی فضائیہ کی بصری حد سے باہر مار کرنے کی صلاحیت میں اضافہ توجہ کا مرکز رہا ہے۔
ایئر چیف مارشل سنگھ نے کہا کہ ’استرا‘، اس کے مختلف ورژن اور اضافی غیر ملکی میزائل بھارتی فضائیہ کی فوری ضروریات پوری کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’استرا ایم کے۲ ‘ اور ’ایم کے۳ ‘ کی تیاری درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، بالخصوص ان کی مار کرنے کی حدود کے حوالے سے۔
اس سلسلے کے پہلے میزائل ’استرا ایم کے ون‘ کی مار کرنے کی صلاحیت۸۰ سے۱۱۰ کلومیٹر ہے۔ ’استرا ایم کے ون‘ کے زیادہ جدید ورژن ’استرا ایم کے۲ ‘ کی مار کرنے کی صلاحیت بڑھا کر۲۰۰ کلومیٹر کردی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل اس کی متوقع حد تقریباً۱۶۰کلومیٹر مقرر کی گئی تھی۔
رواں سال کے اوائل میں دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او) نے ’استرا ایم کے۳‘ کے لیے ٹھوس ایندھن سے چلنے والی ڈکٹڈ ریم جیٹ ٹیکنالوجی کا پروازی تجربہ کیا تھا۔ اس میزائل کی مار کرنے کی صلاحیت۳۵۰ کلومیٹر سے زیادہ ہوسکتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ بھارتی فضائیہ ڈرونز اور ہدف تک پہنچنے کے بعد خودکار طور پر حملہ کرنے والے ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ کررہی ہے، تاہم الگ سے ڈرون فورس قائم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ایئر چیف نے کہا کہ کسی بھی ملک کی جامع قومی طاقت کے دیگر عناصر ایک مضبوط فوج پر منحصر ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









