نئی دہلی، 26 ستمبر (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ گزشتہ جولائی کے اوائل میں الیکشن کمیشن نے بغیر کسی باضابطہ نوٹیفکیشن کے فارم-6 میں تبدیلی کر کے پہلی بار ووٹ دینے والے نوجوانوں کے لیے نئی رکاوٹ کھڑی کر دی تھی اور اب کل دیر رات ان کی رجسٹریشن کے لیے خصوصی کیمپ لگانے نیز سوشل میڈیا کے ذریعے اس کی وسیع تشہیر کرنے کی ہدایت دی ہے۔
کانگریس کی ترجمان محترمہ راگنی نائک نے ہفتے کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ ووٹر رجسٹریشن رولز 1960 میں تبدیلی کیے بغیر فارم-6 میں ترمیم نہیں کی جا سکتی اور اس کے لیے مرکزی حکومت کو پارلیمنٹ کو اطلاع دینی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیشل سمری ریویژن کے تحت ہر سال 18 سال کی عمر پوری کرنے والے نوجوانوں کے نام ووٹر لسٹ میں جوڑے جاتے ہیں لیکن ان کے مطابق 2024 سے یہ عمل روکا گیا ہے۔ اب 29 اور 30 ستمبر کو نوجوان ووٹروں کی رجسٹریشن کے لیے خصوصی کیمپ لگانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
محترمہ نائک نے کہا کہ جولائی 2026 میں فارم-6 میں ایک نئی لازمی شق جوڑی گئی تھی جس کے تحت پہلی بار ووٹ دینے والے نوجوانوں سے ان کے والدین یا دادا دادی کے پچھلی خصوصی تفصیلی نظر ثانی کی کارروائی میں ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ ہونے سے متعلق معلومات مانگی جا رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دو الیکشن کمشنروں نے بھی فارم-6 میں اس طرح کی تبدیلی کی مخالفت کی اور نئے ووٹروں کے لیے نامزدگی کے عمل کو آسان رکھنے کی بات کہی۔ ان کا الزام تھا کہ خصوصی تفصیلی نظرثانی کے تحت 13.8 کروڑ لوگوں کو ووٹنگ کے عمل سے باہر کر دیا گیا ہے اور اب نوجوانوں کے ووٹ کے ساتھ بھی ہیرا پھیری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال 1988 میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کے دورِ اقتدار میں آئین کی دفعہ 326 میں ترمیم کر کے ووٹنگ کی عمر 21 سے گھٹا کر 18 سال کی گئی تھی، جس سے نوجوانوں کو حقِ رائے دہی ملا۔ موجودہ حکومت طلبہ اور نوجوانوں سے خوفزدہ ہے اور اسی وجہ سے الیکشن کمیشن کے ذریعے نوجوان ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ میں جوڑنے کا عمل روکا گیا۔
حقِ تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دورِ اقتدار میں آئین کی دفعہ 21-اے کو نافذ کیا گیا اور چھ سے 14 سال کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی شق بنائی گئی۔
کانگریس ترجمان نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے تعلیم کے بجٹ کو جی ڈی پی کے 4.5 فیصد سے گھٹا کر 2.5 فیصد کر دیا ہے، تعلیمی اداروں میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے جڑے لوگوں کی تعیناتیاں کی جا رہی ہیں نیز تعلیم کی نجکاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 152 امتحانات میں سوالنامے لیک ہوئے اور اس سے سات کروڑ طلبہ متاثر ہوئے۔ انہوں نے بہار کے سیوان میں طلبہ کی تحریکوں کے دوران طلبہ پر آنسو گیس، لاٹھی چارج اور گولی چلانے جیسے اقدامات کیے جانے کا بھی الزام لگایا۔
اس سے پہلے کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ الیکشن کمیشن نے نوجوان ووٹروں کے لیے خصوصی رجسٹریشن کیمپ لگانے اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی وسیع تشہیر کرنے کی ہدایت دی ہے لیکن اس سے پہلے چیف الیکشن کمشنر نے فارم-6 میں تبدیلی کر کے پہلی بار ووٹ دینے والے نوجوانوں کے لیے نئی رکاوٹ کھڑی کر دی۔ انہوں نے کہا کہ فارم میں ایک نئی لازمی شق جوڑی گئی ہے، جس میں درخواست دہندہ سے اس کے والدین یا دادا دادی کے پچھلی خصوصی تفصیلی نظرثانی کے عمل میں شامل ہونے کی معلومات مانگی جا رہی ہیں۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ جولائی کے اوائل میں بغیر کسی باضابطہ نوٹیفکیشن کے آن لائن فارم بدلا گیا اور الیکشن کمیشن کو فارم-6 میں ترمیم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر رجسٹریشن رولز 1960 میں ترمیم کیے بغیر فارم میں تبدیلی کی گئی نیز دونوں الیکشن کمشنروں نے بھی اس تبدیلی کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے معاملے کا از خود نوٹس لے کر چیف الیکشن کمشنر کو جواب دہ ٹھہرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر گیانیش کمار کے پاس استعفیٰ دے کر اور ‘سرکاری گواہ’ بن کر اپنی غلطی سدھارنے کا موقع ہے۔






