نئی دہلی، 22 ستمبر (یو این آئی): وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی مقابلے، عالمی کشیدگی اور مختلف خطوں میں جاری تنازعات کے باعث موجودہ عالمی نظام شدید دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں بین الاقوامی تعاون، کثیرالجہتی اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ’ہائی لیول ویک‘ کے موقع پر ’پارٹنرز فار ملٹی لیٹرلزم، انٹرنیشنل لا، پیس اینڈ پراسپرٹی‘ سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ موجودہ عالمی چیلنجز کسی ایک ملک یا خطے کی کوششوں سے حل نہیں کیے جا سکتے۔ امن و سلامتی، موسمیاتی تبدیلی، نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ترقیاتی مالیات، دہشت گردی کے خلاف کارروائی، عالمی سپلائی چین اور قدرتی آفات سے نمٹنے جیسے معاملات کے لیے اجتماعی اور مربوط کوششیں ناگزیر ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی سطح پر ایندھن، خوراک، کھاد اور مالیاتی وسائل سے متعلق بحرانوں نے متعدد ممالک کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ ان مسائل کے اثرات صرف معیشتوں تک محدود نہیں بلکہ عالمی ترقی، غذائی تحفظ اور عام شہریوں کی زندگیوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کو ایسے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے وبائی امراض سے نمٹنے کی عالمی تیاری پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں پیدا ہونے والے صحت عامہ کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ممالک کے درمیان تعاون، معلومات کے تبادلے اور وسائل کی دستیابی کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق عالمی اداروں کو بدلتے ہوئے حالات اور نئے چیلنجز کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔
جے شنکر نے نئی ٹیکنالوجیز کے تیزی سے پھیلتے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجیز اور ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کے لیے مناسب ضابطہ کار، ذمہ دارانہ استعمال اور مؤثر سکیورٹی انتظامات ضروری ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تکنیکی ترقی کے ساتھ اس کے ممکنہ خطرات اور عالمی سلامتی پر پڑنے والے اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
انہوں نے عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے خطرے کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ کسی ایک ملک، خطے یا ذریعے پر ضرورت سے زیادہ انحصار عالمی معیشت کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر سکتا ہے۔ اس خطرے کو کم کرنے کے لیے سپلائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا اور زیادہ لچکدار عالمی سپلائی چین تشکیل دینا ضروری ہے۔






