وائٹ ہاؤس نے کہا کہ 2025 کے اس اقدام کے نتیجے میں بعض بڑی آئی ٹی آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کی جانب سے ایچ-1 بی رجسٹریشن میں نمایاں کمی آئی۔
اس نے کہا، ’’2025 کے اعلامیے کے نافذ ہونے کے بعد سب سے بڑی آئی ٹی آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کی جانب سے دائر کی جانے والی ایچ-1 بی رجسٹریشن میں 92 فیصد کمی آئی ہے۔‘‘
انتظامیہ نے یہ بھی کہا کہ اس اقدام کے نتیجے میں قونصلر کارروائی کی درخواستوں میں تقریباً 97 فیصد کمی آئی اور کم اجرت والے غیر ملکی کارکنوں کی جگہ زیادہ مہارت اور زیادہ اجرت والے کارکنوں کی جانب رجحان پیدا ہوا۔
وائٹ ہاؤس نے بعض آجروں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکی ملازمین کی جگہ کم اجرت پر ایچ-1 بی کارکنوں کو تعینات کر رہے ہیں، جس سے اجرتوں پر دباؤ پڑتا ہے۔
امریکی بیان میں کہا گیا، ’’ایچ-1 بی ویزا پروگرام کا غلط استعمال ہنرمند امریکی کارکنوں کی اجرتوں میں کمی کا باعث بنتا ہے، کیونکہ سستی غیر ملکی افرادی قوت کی دستیابی سے ملکی اجرتوں پر دباؤ پڑتا ہے۔‘‘
انتظامیہ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بعض آجروں نے ایچ-1 بی کارکنوں کی خدمات حاصل کرنے سے قبل انتہائی ہنرمند امریکی کارکنوں کو ملازمت سے نکال دیا، جبکہ بعض ایچ-1 بی اسپانسرز کے زیر استعمال آؤٹ سورسنگ ماڈل کے تحت ویزا رکھنے والے کارکنوں کی ملازمتیں بالآخر امریکہ سے باہر منتقل ہو جاتی ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے 2025 کے اعلامیے سے قبل کمپیوٹر سائنس کے حالیہ گریجویٹس میں 6.1 فیصد اور کمپیوٹر انجینئرنگ کے حالیہ گریجویٹس میں 7.5 فیصد بے روزگاری کی شرح کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ شرح حیاتیات یا آرٹ ہسٹری کے حالیہ گریجویٹس کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
اس نے یہ بھی کہا کہ امریکہ میں غیر ملکی اسٹیم کارکنوں کی تعداد 2000 سے 2019 کے درمیان دو گنا سے بھی زیادہ ہوگئی، جبکہ اسی عرصے میں مجموعی اسٹیم روزگار میں 44.5 فیصد اضافہ ہوا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، مالی سال 2003 میں آ ٹی کارکنوں میں ایچ-1 بی ویزا رکھنے والوں کا تناسب 32 فیصد تھا، جو 2025 کے اعلامیے سے قبل حالیہ برسوں میں بڑھ کر 65 فیصد سے زیادہ ہوگیا تھا۔
حالیہ اقدام دسمبر 2025 میں محکمہ داخلی سلامتی کے جاری کردہ ایک ضابطے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت ایچ-1 بی ویزا کے لیے بے ترتیب قرعہ اندازی کے نظام کو اجرت کی سطح کی بنیاد پر وزنی انتخابی نظام سے تبدیل کر دیا گیا تھا۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ مالی سال 2027 پہلا سال تھا جب ایچ-1 بی ویزا کے لیے انتخاب قرعہ اندازی کے بجائے اجرت کی بنیاد پر کیا گیا اور رجسٹریشن میں تقریباً 40 فیصد کمی آئی۔
انتظامیہ نے کہا کہ وہ ایچ-1 بی فراڈ اور دیگر ایسے طریقوں کی تحقیقات جاری رکھے گی جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان میں امریکی کارکنوں کے مقابلے میں ویزا رکھنے والوں کو غیر قانونی طور پر ترجیح دی جاتی ہے۔




