نیویارک، 11 ستمبر (یو این آئی) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے درمیان جمعرات کو ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی قانونی حیثیت کے معاملے پر شدید اختلاف سامنے آیا۔ روس اور چین نے 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کی پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنے کی کوششوں کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا۔
یہ تنازع سلامتی کونسل کے ایک اہم اجلاس کے دوران اس وقت پیدا ہوا جب روس نے 1737 پابندیوں کی کمیٹی کے بارے میں مقررہ بریفنگ کو روکنے کی کوشش کی۔ ماسکو کا مؤقف تھا کہ کمیٹی اور پابندیوں کے نظام کی قانونی بنیاد ختم ہوچکی ہے۔
’اسنیپ بیک‘ میکانزم 2015 کے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) کے تحت قائم کیا گیا تھا اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے ذریعے اس کی توثیق کی گئی تھی۔ اس کا مقصد ایران کی جانب سے اپنے جوہری وعدوں کی سنگین خلاف ورزی کی صورت میں اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال کرنا تھا۔
اس میکانزم کو اس طرح بھی ترتیب دیا گیا تھا کہ سلامتی کونسل کا کوئی مستقل رکن اپنے ویٹو کے ذریعے پابندیوں کی بحالی کے عمل کو روک نہ سکے۔
روسی نمائندے نے کہا، ’’ایران سے متعلق سلامتی کونسل کی پہلے منظور شدہ قراردادوں کو دوبارہ نافذ کرنے کا میکانزم، جو قرارداد 2231 میں درج ہے، فعال نہیں کیا گیا اور اس کی متعدد قانونی اور طریقہ کار کی وجوہات ہیں۔‘‘ انہوں نے بریفنگ روکنے کے لیے ضابطے کے تحت ووٹنگ کا مطالبہ کیا۔
ماسکو کا کہنا تھا کہ قرارداد 2231 کی مدت 18 اکتوبر 2025 کو ختم ہوگئی تھی اور اسی روز ایران کے جوہری معاملے کو سلامتی کونسل کے فعال ایجنڈے سے بھی ہٹا دیا گیا تھا۔
روس نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ایران پر پابندیوں کی نگرانی کے لیے قائم 1737 کمیٹی 2015 میں ہی ختم ہوچکی تھی، اس لیے اس کے کام جاری رکھنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔
چین نے روس کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی صدارت کو پابندیوں کی کمیٹی سے متعلق 90 روزہ رپورٹ تیار کرنے یا پیش کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
چینی نمائندے نے کہا، ’’کچھ ارکان اختلافات کو نظرانداز کرتے ہوئے ایران پر کونسل کی پابندیاں زبردستی دوبارہ عائد کرنے اور ہٹائے جاچکے ایجنڈا آئٹم کے تحت کونسل کے اجلاس بلانے پر اصرار کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات کونسل میں اختلافات کو مزید گہرا کریں گے اور سیاسی حل کو مزید مشکل بنا دیں گے۔
بیجنگ نے پابندیوں کے نظام کو یکطرفہ طور پر بحال کرنے کی کوششوں پر ’’شدید تشویش‘‘ اور ’’سخت مخالفت‘‘ کا اظہار کیا۔تاہم مغربی ارکان نے روس اور چین کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے جوہری ذمہ داریاں پوری نہ کیے جانے کے بعد پابندیاں قانونی طور پر بحال ہوچکی ہیں۔






