سرینگر؍۲۶؍اگست
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو کہ انہوں نے آپریشن سندور کے دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرائی تھی، سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا فیصلہ دونوں ملکوں کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان براہِ راست رابطے کے نتیجے میں ہوا اور اس میں کسی تیسرے فریق کا کوئی کردار نہیں تھا۔
منگل کو نئی دہلی میں وویکانند انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل چوہان نے کہا کہ وہ جنگ بندی کے صرف فوجی پہلو پر بات کر سکتے ہیں، تاہم یہ بات واضح ہے کہ اس فیصلے میں کوئی تیسرا فریق شامل نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں جانب کے ڈی جی ایم اوز نے فون پر بات کی۔ بھارتی ڈی جی ایم او نے پہلے تقریباً ساڑھے نو بجے فون کیا، تاہم پاکستانی ڈی جی ایم او نے کہا کہ وہ تقریباً تین بجے تک دستیاب نہیں ہوں گے۔ بعد ازاں تین بجے بات ہوئی اور شام پانچ بجے جنگ بندی کا فیصلہ کیا گیا۔
جنرل چوہان نے کہا، ’’جنگ بندی کا فیصلہ دونوں ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہوا اور بس۔ مجھے اس میں کسی اور کا کردار نظر نہیں آتا۔‘‘
انہوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ جنگ بندی کی اطلاع بھارت کے باضابطہ اعلان سے پہلے امریکہ تک کیسے پہنچ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معلومات امریکہ تک کس طرح پہنچیں، وہ نہیں جانتے، تاہم ’’یہ ہماری طرف سے لیک نہیں ہوئی‘‘۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں نے ڈی جی ایم او سطح کی بات چیت کو خفیہ رکھا تھا اور ان کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر یہ معلومات پاکستانی جانب سے لیک ہوئی ہوں گی۔
ٹرمپ کا دعویٰ
ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے۱۰مئی۲۰۲۵کو ہونے والی جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا، جس کے بعد آپریشن سندور کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روز سے جاری فوجی کشیدگی ختم ہوئی۔
۱۰ مئی کو ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ بھارت اور پاکستان ’’مکمل اور فوری جنگ بندی‘‘ پر متفق ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی ’’طویل رات کی بات چیت‘‘ کے بعد کیا گیا۔
بعد میں بھی ٹرمپ نے کئی مرتبہ جنگ بندی کا کریڈٹ امریکہ کو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی سفارتی اور معاشی دباؤ نے دونوں ملکوں کو لڑائی ختم کرنے پر مجبور کیا۔۳۱ جولائی کو اپنے تازہ دعوے میں انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان ’’بہت غصے میں تھے‘‘ اور امریکی محصولات کی دھمکی نے لڑائی ختم کرنے میں مدد دی۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تنازع کے دوران۱۱ طیارے مار گرائے گئے اور انہوں نے دونوں ملکوں کو لڑائی جاری رکھنے کی صورت میں محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔ بھارت نے طیاروں کے نقصانات سے متعلق ان کے دعوے کی تردید کی ہے اور مسلسل اس بات سے انکار کیا ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی کے لیے ثالثی کی تھی۔
مئی۲۰۲۵میں امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ نے بڑی جنگ سے بچنے کے لیے بھارت اور پاکستان کو تجارتی رسائی کی پیشکش کی تھی۔ بھارت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ تنازع کے دوران بھارتی اور امریکی حکام کے درمیان بات چیت میں تجارت یا محصولات کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا۔
بھارت مسلسل واضح کرتا رہا ہے کہ فوجی کارروائی روکنے کا فیصلہ دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان براہِ راست رابطے کے نتیجے میں ہوا۔ وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ۱۰ مئی کو ڈی جی ایم او سطح پر رابطے کے دوران جنگ بندی کی تاریخ، وقت اور شرائط طے کی گئی تھیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے بھی جولائی۲۰۲۵ میں پارلیمنٹ میں ٹرمپ کے ثالثی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی عالمی رہنما نے بھارت سے فوجی کارروائی روکنے کے لیے نہیں کہا تھا۔
دوسری جانب پاکستان نے ٹرمپ کے کردار کو تسلیم کیا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے مئی۲۰۲۵ میں کہا تھا کہ وہ جنگ بندی کے لیے امریکہ سمیت دیگر ممالک کے تعاون میں ٹرمپ کے ’’تعمیری کردار‘‘ کو سراہتا ہے۔
آپریشن سندور
بھارت نے۲۲؍اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے جواب میں۷ مئی۲۰۲۵کو آپریشن سندور شروع کیا تھا، جس میں۲۶؍ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارتی افواج نے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔
اس کے بعد فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا اور دونوں جانب سے حملے اور جوابی حملے کیے گئے۔۱۰مئی کو پاکستان کے ڈی جی ایم او نے اپنے بھارتی ہم منصب سے رابطہ کیا، جس کے بعد دونوں ملک فوجی کارروائی روکنے پر متفق ہوگئے۔
۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک )










