سرینگر؍۲۶ ؍اگست
پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کی ولادت باسعادت کے موقع پر عید میلاد النبیؐ بدھ کے روز جموں کشمیر بھر میں مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر ہزاروں عقیدت مندوں نے درگاہ حضرت بل میں حاضری دی۔
حکام کے مطابق زائرین نے درگاہ حضرت بل میں نماز ادا کی، جہاں پیغمبر اسلامؐ سے منسوب مقدس تبرکات محفوظ ہیں۔ نماز کے بعد متولی نے زائرین کے دیدار کے لیے مقدس موئے مبارک کی زیارت کرائی۔
درگاہ حضرت بل کے انتظامات سنبھالنے والے جموں کشمیر وقف بورڈ نے بڑی تعداد میں آنے والے عقیدت مندوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے تھے۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر درگاہ حضرت بل سمیت وادی کی کئی دیگر مساجد کو خوبصورتی سے سجانے کے ساتھ ساتھ برقی قمقموں سے روشن کیا گیا تھا۔
وادی کشمیر کے دیگر علاقوں میں بھی میلاد کی محافل منعقد ہوئیں، جہاں علما اور واعظین نے پیغمبر اسلام ؐ کی سیرتِ طیبہ، تعلیمات اور انسانیت کے لیے آپؐ کی خدمات پر روشنی ڈالی۔
نیشنل کانفرنس کے مطابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھی درگاہ حضرت بل میں نمازِ ظہر ادا کی اور جموں کشمیر میں امن، خوشحالی اور ترقی کے لیے دعا کی۔
اس سے پہلےمنگل کی شام اندھیرا چھانے کے ساتھ ہی سری نگر میں درگاہ حضرت بل کی جانب جانے والی سڑکوں پر عقیدت مندوں کی آمد شروع ہوگئی۔ ہاتھوں میں جائے نمازیں لیے، درود و نعتیں پڑھتے ہوئے لوگ عید میلاد النبیؐ کی آمد کے موقع پر درگاہ کی جانب رواں دواں تھے۔
رات ہوتے ہوتے ہزاروں عقیدت مند درگاہ حضرت بل اور اس سے ملحقہ علاقوں میں جمع ہوگئے، جس سے پورا علاقہ نماز، ذکر اور عقیدت کے ایک وسیع اجتماع کا منظر پیش کرنے لگا۔
۲۵؍ااور۲۶؍اگست کی درمیانی شب کشمیر کی مذہبی زندگی میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ وادی کے مختلف علاقوں سے خاندان، بزرگ اور نوجوان درگاہ حضرت بل پہنچے تاکہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ؐ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے یہ رات عبادت اور غور و فکر میں گزار سکیں۔
شب خوانی کا سلسلہ جاری رہا اور درگاہ کا پورا ماحول درود و اذکار، نعتوں اور دعاؤں سے گونجتا رہا۔عقیدت مندوں کے لیے میلاد محض مذہبی تقویم کی ایک تاریخ نہیں بلکہ پیغمبر اسلامؐ کی زندگی اور تعلیمات کی طرف دوبارہ رجوع کا موقع ہے۔ یہ غصے کے بجائے رحمت، بے حسی کے بجائے ہمدردی، آزمائش کے وقت صبر اور اختلافات سے بالاتر ہوکر بھائی چارے کا پیغام یاد کرنے کا موقع بھی ہے۔
ستر برس کی عمر کے ایک عقیدت مند محمد سلام ڈار نے کہا، ’’لوگ دلوں میں محبت اور لبوں پر دعائیں لیے یہاں آتے ہیں۔‘‘ایک اور عقیدت مند عبدالجبار نے کہا کہ یہ اجتماع پیغمبر اسلامؐ کی زندگی سے وابستہ اقدار سے دوبارہ جڑنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ان کے بقول، ’’ہم یہاں صرف نماز ادا کرنے نہیں آتے بلکہ رحمت، صبر، ہمدردی اور بھائی چارے کی ان کی تعلیمات کو بھی یاد کرتے ہیں۔‘‘
رات گہری ہونے کے ساتھ درگاہ حضرت بل کے اطراف عقیدت مندوں کی آمد و رفت جاری رہی۔ درگاہ کی جانب جانے والی سڑکوں پر ٹریفک کی آوازوں کے ساتھ نعتوں اور دعاؤں کی صدائیں مل کر سری نگر کے شمالی حصے کو ایک ایسے شہر کا منظر پیش کر رہی تھیں جو عقیدت میں بیدار تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق خبر)










