کنشاسا، 24 اگست (یو این آئی) جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا کی وبا شدت اختیار کر گئی ہے اور تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 5,515 جبکہ ہلاکتیں 2,642 تک پہنچ گئی ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو ایتوری اور شمالی کیوو صوبوں میں مزید 51 نئے کیسز سامنے آئے۔
یہ وبا ڈی آر کانگو کی تاریخ کی سب سے مہلک ایبولا وبا بن چکی ہے۔ اسی دوران پوپ لیو نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وبا پر قابو پانے اور انسانی جانیں بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
مئی کے وسط میں شروع ہونے والی یہ ڈی آر کانگو کی 17ویں ایبولا وبا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اسے بین الاقوامی تشویش کی حامل صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے، جس میں پڑوسی ملک یوگنڈا بھی شامل ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق کیسز میں اموات کی شرح جون کے آغاز میں تقریباً 20 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 48 فیصد ہوگئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایبولا سے متاثر ہونے والے تقریباً ہر دو افراد میں سے ایک جان سے جا رہا ہے۔
تاہم متاثرہ افراد سے رابطوں کا سراغ لگانے کی شرح میں نمایاں بہتری آئی ہے اور یہ جون میں 30 فیصد سے بڑھ کر اب 85 فیصد سے زیادہ ہوگئی ہے۔
وبا پر قابو پانے کی کوششوں کو متاثرہ علاقوں میں مسلح تنازع، بڑے پیمانے پر نقل مکانی، طبی عملے اور مراکز پر حملوں، نقل و حرکت کرنے والی آبادی اور بنیادی ڈھانچے کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق تقریباً 160 طبی کارکن ایبولا سے متاثر ہوچکے ہیں، جن میں سے تقریباً 45 ہلاک ہوگئے ہیں۔
اس وبا کا سبب بننے والے ایبولا وائرس کی قسم بنڈی بگیو (Bundibugyo) ہے، جو ماضی میں پھیلنے والی ایبولا کی زیادہ تر اقسام کے مقابلے میں کم عام ہے۔ اس مخصوص قسم کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں۔
تاہم ڈبلیو ایچ او نے ایبولا کے لیے منظور شدہ Ervebo ویکسین کی 70 ہزار خوراکیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ابتدائی جانوروں پر کیے گئے تجربات سے اشارہ ملا ہے کہ یہ ویکسین بنڈی بگیو وائرس سے کچھ تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔
ویکسین کی 16,250 خوراکیں جمعہ کو ڈی آر کانگو پہنچ گئیں۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس اور دیگر حکام نے کہا ہے کہ وبا پر قابو پانے کے لیے موجودہ کوششوں کو دو سے تین گنا بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ تمام متاثرہ علاقوں تک رسائی ممکن بنائی جاسکے۔انہوں نے فرنٹ لائن طبی کارکنوں کو زیادہ تحفظ فراہم کرنے، حفاظتی سامان، بروقت ادائیگی، فوری تشخیص اور معیاری طبی نگہداشت کی فراہمی پر بھی زور دیا۔
صحت عامہ کے ماہر عبدالاسلام ناصدی نے الجزیرہ سے گفتگو میں خبردار کیا کہ صورتحال "قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے”۔ ان کے مطابق انفیکشن سے بچاؤ کے کمزور اقدامات اور متاثرہ آبادیوں اور حکام کے درمیان اعتماد کی کمی وائرس کے مسلسل پھیلاؤ کی اہم وجوہات ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اب صرف قومی یا علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق عالمی سطح پر خطرہ فی الحال کم ہے، تاہم ڈی آر کانگو کے اندر خطرہ بہت زیادہ ہے۔ اس کے باوجود یوگنڈا اور ڈی آر کانگو کے ایتوری اور جنوبی کیوو کے بعض صحت کے علاقوں میں وائرس کی منتقلی روک دی گئی ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ بروقت تشخیص، فیصلہ کن قیادت اور مقامی آبادی کا تعاون وبا کے پھیلاؤ کو روکے جانے میں مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
ویٹیکن میں اتوار کو پوپ لیو نے ڈی آر کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے لیے دعا کی اور عالمی برادری سے جانیں بچانے کے لیے فوری اقدام کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو ایسا ردعمل دینا چاہیے جس میں مقامی آبادیوں کو بھی وبا کی روک تھام کی کوششوں میں شامل کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ انسانی جانیں بچائی جاسکیں۔










