نئی دہلی، 20اگست (یو این آئی) دہلی پردیش بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر ہرش ملہوترا نے عام آدمی پارٹی (آپ) کو بدعنوانی میں ڈوبی ہوئی اور سیاسی طور پر مایوس پارٹی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی جل بورڈ گھوٹالے کی تحقیقات مکمل ہوتے ہی سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال بھی جیل جائیں گے۔
مسٹر ملہوترا نے آپ لیڈر اور سابق وزیر ستیندر جین کو عدالتی حراست میں بھیجے جانے کے معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ کے اروند کیجریوال، منیش سسودیا، جین، ویبھو کمار جیسے بدعنوان لیڈروں کے سیاہ کارناموں کی تحقیقات اور گرفتاریاں ہو رہی ہیں تو وہ سیاسی مظلومیت کا کارڈ کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی جل بورڈ کیجریوال حکومت میں لوٹ مار کا سب سے بڑا مرکز رہا تھا۔ 10 سال تک دہلی جل بورڈ کے کھاتوں کا کوئی آڈٹ نہیں ہوا اور تقریباً 60 ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالا ہوا اور جس دن مکمل تحقیقات کی رپورٹ آئے گی، مسٹر کیجریوال خود بھی جیل جائیں گے۔
وہیں رکن پارلیمان منوج تیواری نے کہا ہے کہ مسٹر جین اور دیگر ملزمان کی گرفتاری سے یہ پوری طرح واضح ہوگیا ہے کہ کیجریوال حکومت کے 10 سالہ دور اقتدار میں دہلی کو کس طرح لوٹا گیا۔ نالوں پر ایک بھی ایس ٹی پی نہ لگانے اور جمنا کے مسلسل آلودہ ہونے کے پیچھے یہی سرکاری بدعنوانی ذمہ دار ہے۔ آپ چاہے جتنے بھی سیاسی دعوے کرے، لیکن بدعنوانی کے پختہ ثبوت سامنے آچکے ہیں۔ قانون اپنا کام کر رہا ہے اور دہلی کے گنہگاروں کو سزا مل کر رہے گی۔ عوام اب ان کے بہکاوے میں آنے والی نہیں ہے۔
رکن پارلیمان بانسوری سوراج نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کی اس وقت کی حکومت نے اپنے پورے دور اقتدار میں یہ دکھا دیا کہ ان کی پوری نیت صرف اپنی تشہیر اور بدعنوانی کی تھی۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ عام آدمی پارٹی کی حکومت کے پورے دور اقتدار میں دہلی میں ایک بھی ایس ٹی پی پلانٹ نہیں لگایا گیا۔
راجیہ سبھا رکن پارلیمان سواتی مالیوال نے کہا کہ دہلی میں مسٹر کیجریوال نے 10 سال بدعنوانی کی دکان چلائی۔ اسکولوں میں کلاس روم کی تعمیر سے لے کر شراب گھوٹالے تک، نہ جانے کتنے گھوٹالے ہوئے۔ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں کسی وزارت کا ایک دن بھی چارج نہیں سنبھالا اور بدعنوانی کا الزام وزیروں پر ڈالنے کی حکمت عملی اپنائی۔
چاندنی چوک سے رکن پارلیمان پروین کھنڈیلوال نے کہا کہ مسٹر جین کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ مسٹر کیجریوال نے 10 سال میں اقتدار کے تحفظ میں بدعنوانی کا ایسا نمونہ تیار کیا جس میں سیاست دان، افسران اور ٹھیکیدار سبھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب آہستہ آہستہ مسٹر کیجریوال کے کارنامے سامنے آرہے ہیں۔








