اقوام متحدہ، 20 اگست (یو این آئی) اقوام متحدہ کے انسانی امور کے دفتر نے کہا ہے کہ گزشتہ سال ریکارڈ تعداد میں امدادی کارکنوں کو پرتشدد حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کی ایک بڑی وجہ مسلح ڈرونز کا بڑھتا ہوا استعمال بھی ہے۔ایڈ ورکر سکیورٹی ڈیٹا بیس کے مطابق، جو انسانی امدادی کارکنوں کو متاثر کرنے والے بڑے واقعات کا ریکارڈ مرتب کرتا ہے، صرف 2025 میں 907 امدادی کارکن ہلاک، زخمی یا اغوا ہوئے۔
ان میں سے 350 امدادی کارکن ہلاک ہوئے، جو 2024 میں ریکارڈ کیے گئے 387 ہلاکتوں کے مقابلے میں معمولی کمی ہے۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تشدد کی اس سطح کو ’’انتہائی افسوسناک‘‘ قرار دیتے ہوئے ممالک پر زور دیا کہ وہ جنگ کے قوانین کا احترام کریں اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنائیں۔انہوں نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا، ’’دوسروں کی خدمت کرنا پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہوگیا ہے۔‘‘
اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا کہ تنازعات میں سستے اور مختلف طریقوں سے استعمال کیے جانے والے مسلح ڈرونز کے پھیلاؤ نے خطرات میں اضافہ کردیا ہے۔
مارچ میں مشرقی جمہوری جمہوریہ کانگو کے شہر گوما میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک فرانسیسی امدادی کارکن بھی شامل تھا۔ اسی طرح سوڈان اور یوکرین میں امدادی قافلے بھی بارہا حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں غزہ امدادی کارکنوں کے لیے سب سے زیادہ مہلک مقام رہا، جہاں گزشتہ سال 186 امدادی کارکن ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد سوڈان کا نمبر رہا۔
اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی کے انسانی امور کے رابطہ کار رامز الاکبرف نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ’’انسانی امدادی کارکن ہدف نہیں ہیں اور انسانی امداد کی فراہمی میں مکمل سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔‘‘
یو این آر ڈبلیو اے کے سابق سربراہ فیلیپ لازارینی نے رواں سال کے آغاز میں کہا تھا کہ وہ ادارے کے عملے کی ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی پینل کے قیام کی کوشش کر رہے ہیں۔
انسانی امدادی کارکنوں پر حملے ایسے وقت میں بڑھ رہے ہیں جب ان کے کام کے لیے مالی امداد میں بھی مسلسل کمی کی جارہی ہے۔
یورپی کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ وہ امدادی عطیات سے متعلق اپنی ذمہ داریاں جاری رکھے گا، تاہم اس نے مزید کہا، ’’ہر امدادی کارکن کی ہلاکت صرف ایک ذاتی المیہ نہیں بلکہ عالمی برادری کی جانب سے اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکامی بھی ہے۔‘‘
آکسفیم کی عالمی انسانی امدادی پالیسی کی سربراہ بشری خالدی نے امدادی کارکنوں کے لیے زیادہ مؤثر تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، ’’ہم خود انسانی امدادی سرگرمیوں پر ایک حملہ دیکھ رہے ہیں۔‘‘









