نئی دہلی، 14 اگست (یو این آئی) قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے مہاراشٹر کے گڑچرولی ضلع کے ایک آشرم اسکول کے ہاسٹل میں چھ آدیواسی طالبات کو سانپ کے کاٹنے اور ان میں سے تین کی موت کی میڈیا رپورٹ پر از خود نوٹس لیا ہے۔ این ایچ آر سی نے جمعہ کے روز بتایا کہ کمیشن نے معاملے کو سنگین انسانی حقوق کا مسئلہ مانتے ہوئے مہاراشٹر کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کر کے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹ کے مطابق، ہاسٹل میں وافر چارپائیاں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے طالبات مبینہ طور پر فرش پر سونے پر مجبور تھیں۔ اسی دوران چھ طالبات کو سانپ نے کاٹ لیا۔ ان میں سے تین طالبات کی موت ہو گئی، جبکہ تین دیگر کا اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ کمیشن نے ریاستی حکومت سے زخمی طالبات کی موجودہ صحت کی صورتحال کی معلومات بھی رپورٹ میں شامل کرنے کو کہا ہے۔
کمیشن نے کہا ہے کہ اگر میڈیا رپورٹ میں سامنے آئے حقائق درست پائے جاتے ہیں تو یہ طالبات کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے جڑا سنگین معاملہ ہے۔ کمیشن نے مہاراشٹر کے چیف سکریٹری سے واقعے کی وجوہات، ہاسٹل کے انتظامات نیز طالبات کو فراہم کی جانے والی سہولیات سمیت پورے معاملے پر تفصیلی رپورٹ دینے کو کہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 11 اگست کو شائع خبر کے مطابق، ہاسٹل کے ایک ہی کمرے میں 79 طالبات رہ رہی ہیں۔ تقریباً 25 سالوں سے چل رہے اس ہاسٹل میں مبینہ طور پر بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ گڑچرولی ضلع میں ہر سال بڑی تعداد میں سانپ کے ڈسنے کے واقعات سامنے آنے کی بات بھی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔







