نئی دہلی، 14 اگست (یو این آئی) یوتھ کانگریس نے تنظیم کو زمینی سطح پر مضبوط کرنے اور نوجوانوں کے حقوق، روزگار اور انصاف کے لیے جدوجہد تیز کرنے کا عزم کرتے ہوئے ناانصافی، بے روزگاری، طلباء پر حملوں اور نوجوانوں کی آواز دبانے کی ہر کوشش کے خلاف مضبوطی سے کھڑے رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یوتھ کانگریس کے قومی ترجمان ورون پانڈے نے جمعہ کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ قومی ایگزیکٹو نے 11 سے 13 اگست تک یہاں مہاراشٹر بھون میں ہوئی تین روزہ میٹنگ میں ‘تعمیر اور مزاحمت’ کو اپنی سیاسی قرارداد کی بنیاد بناتے ہوئے یہ قرارداد منظور کی۔
انہوں نے بتایا کہ میٹنگ میں کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، رندیپ سنگھ سرجیوالا، گوا کانگریس کے صدر گریش، کانگریس کے بہار کے انچارج کرشنا الاورو کے ساتھ ہی کانگریس کے کئی سکریٹریوں اور مختلف شعبوں کے سربراہوں نے یوتھ کانگریس کی قومی ایگزیکٹو کے اراکین سے خطاب کیا۔
یوتھ کانگریس کی سیاسی قرارداد میں 20 جولائی کو طلباء کے خلاف ہوئی پولیس کارروائی کی جوابدہی طے کرنے اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یوتھ کانگریس نے اس معاملے پر ملک گیر جمہوری تحریک چلانے نیز آن لائن چارج شیٹ اور شہریوں کی عرضی کے ذریعے مہم کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
تنظیم نے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے قومی تحریک کھڑی کرنے کا عزم کرتے ہوئے تعلیم اور امتحانات کو منصفانہ، آسان، شفاف اور جوابدہ بنانے پر زور دیا۔ ‘چھاتروں کی گونج’ مہم کے ذریعے طلباء اور نوجوانوں کی آواز کو منظم کر کے روزگار، انصاف اور جوابدہی کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ سیاسی قرارداد میں آئین اور جمہوری اداروں کے تحفظ کو بھی اہم مسئلہ بنایا گیا ہے۔ یوتھ کانگریس نے کہا ہے کہ وہ آئین کے تحفظ کے لیے راہل اور کھرگے کی جدوجہد کو مضبوطی دے گی۔
قومی ایگزیکٹو نے نوجوانوں کے حقوق کے لیے ‘پنجہ’ کو سیاسی خاکہ کے طور پر اپنایا ہے۔ اس کے پانچ ستون پڑھائی، موقع، انصاف، جوابدہی اور آزادی ہیں۔ تنظیم نے کہا کہ ‘پنجہ’ صرف اعلان






