واشنگٹن، 14 اگست (یواین آئی) عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو معمولی کمی دیکھی گئی۔ امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں توقع سے کہیں زیادہ اضافے اور عالمی پیداوار بڑھنے سے سپلائی سے متعلق خدشات کم ہوئے، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کی توقعات نے بھی سپلائی میں رکاوٹ کے خطرے کو محدود کیا۔
بین الاقوامی معیار برینٹ کروڈ کے اکتوبر کے سودے مقامی وقت کے مطابق صبح 9:45 بجے 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 88.84 ڈالر فی بیرل پر رہے، جبکہ گزشتہ کاروباری سیشن میں یہ قیمت 88.98 ڈالر تھی۔ امریکی معیار ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے ستمبر کے سودے 0.3 فیصد کم ہوکر 82.99 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق گزشتہ ہفتے تجارتی خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 1.74 کروڑ بیرل کا اضافہ ہوا اور یہ 42.44 کروڑ بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ مارکیٹ میں 17 لاکھ بیرل کمی کی توقع تھی۔ ذخائر میں غیر متوقع اضافے سے سپلائی کے خدشات کم ہوئے اور قیمتوں پر دباؤ پڑا۔
تاہم اس کمی کا اثر اس لیے محدود رہا کیونکہ امریکہ کے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر میں 61 لاکھ بیرل کی کمی ہوئی اور ذخائر سے جاری تیل نے تجارتی ذخائر میں اضافے میں کردار ادا کیا۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق جولائی میں عالمی تیل کی سپلائی 24 لاکھ بیرل یومیہ بڑھ کر 10.15 کروڑ بیرل یومیہ ہوگئی۔ خلیجی ممالک نے تنازع کے دوران متاثر ہونے والی پیداوار کو دوبارہ بحال کرنا جاری رکھا۔
اوپیک کی پیداوار میں اضافے نے بھی قیمتوں پر دباؤ ڈالا۔ اوپیک کی ماہانہ تیل مارکیٹ رپورٹ کے مطابق جولائی میں تنظیم کی خام تیل کی پیداوار 16.5 لاکھ بیرل یومیہ بڑھ کر 2.363 کروڑ بیرل یومیہ ہوگئی۔
تاہم آئی ای اے کی اس پیش گوئی نے قیمتوں میں مزید کمی کو محدود کیا کہ سال کے اختتام تک عالمی تیل کی سپلائی میں 43 لاکھ بیرل یومیہ کمی آئے گی اور اوسط سپلائی 10.2 کروڑ بیرل یومیہ رہ سکتی ہے۔








