نئی دہلی، 13 اگست (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی ترجمان سمبت پاترا نے پیپر لیک معاملے پر پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس معاملے پر عام آدمی پارٹی (عآپ) اور کانگریس پارٹی پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
مسٹر پاترا نے بدھ کے روز نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ گزشتہ ماہ پنجاب میں فارمیسی افسرز کی بھرتی کے لیے فرید یونیورسٹی (بی ایف یو ایچ ایس) نے جو امتحان منعقد کیا تھا، اس کے حوالے سے عدالت نے پنجاب حکومت کے خلاف سخت ریمارکس دیے اور پوچھا کہ آخر یہ امتحان کیوں نہیں روکا گیا؟ امتحان دوبارہ کیوں نہیں ہونا چاہیے؟ انہوں نے کہا کہ عدالت نے امتحان پر روک لگا دی ہے۔
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ پنجاب کی ‘عآپ’ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ صرف چند بے ضابطگیاں تھیں اور جنہوں نے یہ گڑبڑ کی تھی انہیں معطل کر دیا گیا ہے، لیکن ایک درخواست گزار نے اس پورے معاملے کو لے کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور آج عدالت کے فیصلے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ پنجاب حکومت عوام کو گمراہ کرنے اور جھوٹ پروسنے کی کوشش کر رہی تھی۔
جب پیپر لیک ہوا تھا، تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے بار بار کہا تھا کہ کوئی پیپر لیک نہیں ہوا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چاہے کانگریس ہو یا ‘عآپ’، دونوں کا کردار دوہرا ہے۔








