ہفتہ, اگست 15, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home عالمی خبریں

مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی گھروں کا اسرائیلی آبادکاروں کا محاصرہ چوتھے روز میں داخل

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-08-14
in عالمی خبریں
A A
مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی گھروں کا اسرائیلی آبادکاروں کا محاصرہ چوتھے روز میں داخل

Israeli soldiers stand guard next to settlers in front of Palestinian homes that they have blockaded in the village of Qusra, south of Nablus, in the occupied West Bank, Wednesday, Aug. 12, 2026. (AP Photo/Nidal Eshtayeh)

FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

بھارتی اور پاکستانی ایک دوسرے کو سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں: پیو ریسرچ

امریکی کولبی کا جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ مضبوط دفاعی روابط کا عزم

رام اللہ، 13 اگست (یو این آئی) اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں تین فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں کے اندر محصور کر رکھا ہے اور پانی و بجلی کی فراہمی منقطع کردی ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ مہم ان کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش ہے۔
بدھ کے روز نابلس کے جنوب میں واقع گاؤں قصریٰ سے سامنے آنے والی سکیورٹی کیمرے کی فوٹیج میں اسرائیلی آبادکاروں کو ایک گھر کے گرد جمع دکھایا گیا ہے۔
محصور رہائشیوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی دن کے اوائل میں مداخلت کے باوجود آبادکاروں کو منتشر کرنے میں ناکام رہے۔
محاصرے میں موجود رہائشیوں میں سے ایک عائشہ ابو ریدہ نے الجزیرہ کو بتایا کہ محاصرہ اتوار کو شروع ہوا، جب آبادکاروں نے ان کے گھر کے تمام راستے بند کردیے۔
انہوں نے کہا، "ہم آبادکاروں میں گھرے ہوئے ہیں، لیکن ان شاء اللہ ثابت قدم رہیں گے۔ ہم چاہے کچھ بھی ہوجائے، اپنا گھر نہیں چھوڑیں گے۔ پانی اور بجلی منقطع ہونے کے باوجود ہم ثابت قدم رہیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا، "ان کے بار بار کیے جانے والے حملوں کے باوجود، جن کا مقصد ہمیں بے دخل کرنا ہے، ان شاء اللہ ہم ثابت قدم رہیں گے اور اپنے گھروں میں رہیں گے، چاہے ہمیں شہید ہی کیوں نہ ہونا پڑے۔”
گاؤں میں ایک گھر کے مالک فلسطینی نژاد امریکی شہری لوئی ریدی نے بتایا کہ ان کے بھائی قصیٰ ابو ریدہ اور 18 سالہ بھتیجا احمد بھی ان افراد میں شامل ہیں جو گھروں کے اندر محصور ہیں۔
امریکہ کے شہر ٹولیڈو سے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے ریدی نے بتایا کہ پانی کی لائنیں منقطع کیے جانے کے بعد خاندان عارضی شمسی توانائی کے نظام اور موسم سرما کے دوران کنویں میں ذخیرہ کیے گئے باقی ماندہ پانی پر انحصار کر رہا ہے۔
ریدی نے کہا، "وہ (قصیٰ ابو ریدہ) گھر چھوڑنا نہیں چاہتا، کیونکہ اگر وہ گھر چھوڑ دیتا ہے تو آبادکار فوراً اس پر قبضہ کرلیں گے۔ یہ واقعی بہت، بہت مشکل ہے۔ اس نے ابھی مجھے بتایا، ’میرے پاس صرف دو سے تین دن کا سامان باقی ہے۔ اور اگر کوئی ہمیں کھانا فراہم نہ کرسکا تو مجھے نہیں معلوم کہ میں مزید کیا کرسکتا ہوں۔‘”
ریدی کے مطابق اتوار کو ان کے بھائی کی جانب سے مدد کے لیے کال کرنے کے باوجود اسرائیلی فورسز نے مداخلت کے لیے بہت کم کارروائی کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موقعے کی ایک ایسی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں فوجیوں کو آبادکاروں کے ساتھ گھٹنوں کے بل نماز ادا کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا، "انہوں نے بنیادی طور پر کچھ بھی نہیں کیا۔”
بدھ کی صبح مزید اسرائیلی فوجی علاقے میں پہنچے، آبادکاروں کا خیمہ اکھاڑ دیا اور تقریباً 50 سے 60 افراد کے ساتھ جھڑپ ہوئی، جس کے بعد فوجی وہاں سے واپس چلے گئے۔
ریدی نے کہا، "وہ آبادکاروں کو وہاں سے نکالنے میں اس لیے ناکام رہے کیونکہ انہوں نے ان کے خلاف سختی نہیں کی۔ انہیں چاہیے تھا کہ انہیں گاڑیوں میں بٹھا کر وہاں سے لے جاتے۔”
اسرائیلی فوج نے بدھ کی شام کہا کہ وہ علاقے میں ایک اضافی انفنٹری بٹالین تعینات کرے گی۔ فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف نے مزید واقعات کی روک تھام اور "نظم و ضبط اور عملی کنٹرول کو مضبوط بنانے” کے لیے کوششیں جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
اس سے ایک روز قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اسے علاقے میں آبادکاروں کے فلسطینی گھروں اور زمینوں میں داخل ہونے اور ان پر قبضہ کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ فوج نے اس سرگرمی کو "غیر قانونی، قابل مذمت اور ناقابل قبول” قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے رہائشیوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہورہی ہے۔
فوج نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ دنوں موقعے پر موجود سکیورٹی اہلکاروں کی سامنے آنے والی ویڈیوز کی بنیاد پر ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
ریدی نے کہا کہ ان کا خاندان "خوف میں زندگی گزار رہا ہے۔”انہوں نے کہا، "آبادکار انہیں ہراساں اور ان پر حملے کر رہے ہیں۔ میں اس بارے میں کچھ نہیں کرسکتا۔”

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

کولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان

Next Post

امریکی کولبی کا جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ مضبوط دفاعی روابط کا عزم

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

ہندپاک کا جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ
اہم ترین

بھارتی اور پاکستانی ایک دوسرے کو سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں: پیو ریسرچ

2026-08-15
امریکی کولبی کا جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ مضبوط دفاعی روابط کا عزم
عالمی خبریں

امریکی کولبی کا جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ مضبوط دفاعی روابط کا عزم

2026-08-14
کولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
عالمی خبریں

کولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان

2026-08-14
جرمنی میں خشک سالی سے زراعت، مویشی پالنا سب سے زیادہ متاثر: وزیر زراعت
عالمی خبریں

جرمنی میں خشک سالی سے زراعت، مویشی پالنا سب سے زیادہ متاثر: وزیر زراعت

2026-08-14
لبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
عالمی خبریں

لبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز

2026-08-14
زیمبیا میں صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ شروع، اقتصادی اصلاحات کا امتحان
عالمی خبریں

زیمبیا میں صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ شروع، اقتصادی اصلاحات کا امتحان

2026-08-14
پینٹاگن کی امریکی حملوں کے جائزے میں 153 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق واشنگٹن، 13 اگست (یو این آئی) امریکی وزارت دفاع (پینٹاگن) کے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ یمن میں گزشتہ سال ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف تین امریکی فضائی حملوں میں 153 عام شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔ یہ نتائج بدھ کو امریکی کانگریس کو بھیجی گئی شہری ہلاکتوں کی سالانہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ جائزہ اپریل 2025 میں کیے گئے تین فضائی حملوں پر مرکوز تھا۔ حملوں میں یمنی دارالحکومت صنعا اور حوثیوں کے زیر کنٹرول راس عیسیٰ کی بندرگاہ اور اس کے اطراف کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت امریکی افواج حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن کر رہی تھیں جو بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور اسرائیل پر حملہ کر رہے تھے۔ پینٹاگن کے جائزے کے مطابق تینوں حملوں میں مجموعی طور پر 153 شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔ راس عیسیٰ بندرگاہ پر ہونے والا حملہ سب سے مہلک تھا، جس میں 80 افراد ہلاک اور 171 زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد، جگہ پر زبردست آگ بھڑک اٹھی، جس سے کئی ٹینکر ٹرک تباہ ہوگئے۔ حوثی حامی المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے حملے کے بعد کی فوٹیج نشر کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس وقت کہا تھا کہ ان حملوں کا مقصد یمنی عوام کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ کمانڈ کے مطابق، امریکی افواج نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے لیے ایندھن کے ایک ذرائع کو تباہ کرنے اور ان کی آمدنی کے ناجائز ذرائع کو متاثر کرنے کے لیے کارروائی کی۔ جائزے میں ان حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کے لیے معاوضے یا بھتہ کی سفارش نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ پینٹاگن کے مطابق ایسا معاوضہ امریکی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون کے تحت لازمی نہیں ہے اور غلط کام کا اعتراف نہیں کرتا۔ امریکی فوج پہلے بھی ایسے معاملات میں معاوضے کی پیشکش کر چکی ہے۔ 2021 میں افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں سات بچوں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد، پینٹاگون نے متاثرین کے خاندانوں کو اس طرح کے معاوضے کا وعدہ کیا. پینٹاگن کا یہ جائزہ ٹرمپ انتظامیہ کی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں امریکی کانگریس میں بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے۔ اس سال کے شروع میں ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایک پرائمری اسکول کو نشانہ بنانے والے امریکی میزائل حملے میں مبینہ طور پر 168 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی فوج نے پہلی بار 2023 میں حوثی باغیوں کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کیا، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، جو نہر سویز کے ذریعے بحیرہ روم سے جڑتا ہے۔
عالمی خبریں

پینٹاگن کی امریکی حملوں کے جائزے میں 153 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق واشنگٹن، 13 اگست (یو این آئی) امریکی وزارت دفاع (پینٹاگن) کے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ یمن میں گزشتہ سال ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف تین امریکی فضائی حملوں میں 153 عام شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔ یہ نتائج بدھ کو امریکی کانگریس کو بھیجی گئی شہری ہلاکتوں کی سالانہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ جائزہ اپریل 2025 میں کیے گئے تین فضائی حملوں پر مرکوز تھا۔ حملوں میں یمنی دارالحکومت صنعا اور حوثیوں کے زیر کنٹرول راس عیسیٰ کی بندرگاہ اور اس کے اطراف کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت امریکی افواج حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن کر رہی تھیں جو بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور اسرائیل پر حملہ کر رہے تھے۔ پینٹاگن کے جائزے کے مطابق تینوں حملوں میں مجموعی طور پر 153 شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔ راس عیسیٰ بندرگاہ پر ہونے والا حملہ سب سے مہلک تھا، جس میں 80 افراد ہلاک اور 171 زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد، جگہ پر زبردست آگ بھڑک اٹھی، جس سے کئی ٹینکر ٹرک تباہ ہوگئے۔ حوثی حامی المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے حملے کے بعد کی فوٹیج نشر کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس وقت کہا تھا کہ ان حملوں کا مقصد یمنی عوام کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ کمانڈ کے مطابق، امریکی افواج نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے لیے ایندھن کے ایک ذرائع کو تباہ کرنے اور ان کی آمدنی کے ناجائز ذرائع کو متاثر کرنے کے لیے کارروائی کی۔ جائزے میں ان حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کے لیے معاوضے یا بھتہ کی سفارش نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ پینٹاگن کے مطابق ایسا معاوضہ امریکی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون کے تحت لازمی نہیں ہے اور غلط کام کا اعتراف نہیں کرتا۔ امریکی فوج پہلے بھی ایسے معاملات میں معاوضے کی پیشکش کر چکی ہے۔ 2021 میں افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں سات بچوں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد، پینٹاگون نے متاثرین کے خاندانوں کو اس طرح کے معاوضے کا وعدہ کیا. پینٹاگن کا یہ جائزہ ٹرمپ انتظامیہ کی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں امریکی کانگریس میں بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے۔ اس سال کے شروع میں ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایک پرائمری اسکول کو نشانہ بنانے والے امریکی میزائل حملے میں مبینہ طور پر 168 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی فوج نے پہلی بار 2023 میں حوثی باغیوں کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کیا، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، جو نہر سویز کے ذریعے بحیرہ روم سے جڑتا ہے۔

2026-08-14
عالمی خبریں

جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے ’بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی‘ ہیں: وزیراعظم

2026-08-14
Next Post
امریکی کولبی کا جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ مضبوط دفاعی روابط کا عزم

امریکی کولبی کا جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ مضبوط دفاعی روابط کا عزم

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.