ڈھاکہ، 12 اگست (یو این آئی) بنگلہ دیش میں بجلی کا بحران بدستور سنگین ہوتا جارہا ہے کیونکہ توانائی کا شعبہ گیس کی شدید قلت سے دوچار ہے، جس کے باعث بجلی کی پیداوار محدود ہوگئی ہے اور دیہی علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ بعض صارفین نے روزانہ 16 گھنٹے تک بجلی کی بندش کی شکایت کی ہے۔
12 اگست کو نیشنل گرڈ کے اعداد و شمار کے مطابق صبح 8 بجے بجلی کی طلب 15,249 میگاواٹ تھی جبکہ رسد صرف 12,935 میگاواٹ رہی، جس سے 2,314 میگاواٹ کا شارٹ فال پیدا ہوا۔ صبح 4 بجے طلب 15,969 میگاواٹ کے مقابلے میں رسد 13,018 میگاواٹ تھی، جبکہ رات 1 بجے بجلی کی کمی 3,194 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔
بزنس اسٹینڈرڈ بی ڈی کے مطابق بڑے شہری مراکز سے باہر بجلی کی قلت زیادہ شدید ہے۔ منگل کو میمین سنگھ میں طلب کے مقابلے میں سب سے زیادہ لوڈشیڈنگ ریکارڈ کی گئی، جہاں مطلوبہ بجلی کی 30.57 فیصد مقدار دستیاب نہیں تھی۔
گوپال گنج میں ویسٹ زون پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ نے بتایا کہ میونسپل علاقے میں روزانہ 8 سے 10 گھنٹے بجلی بند رہتی ہے۔ ادارے نے ممکنہ بدامنی اور تخریب کاری کے خدشے کے پیش نظر اپنے دفاتر اور سب اسٹیشنز کے اطراف باقاعدہ پولیس گشت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
راجشاہی میں شہری علاقوں کے صارفین کو روزانہ 2 سے 4 گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں 6 سے 8 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ راجشاہی پالی بجلی سمیتی نے 14 سب اسٹیشنز پر اضافی سکیورٹی طلب کی ہے۔ پانچ اپازیلا علاقوں میں بجلی کی طلب 110 سے 115 میگاواٹ کے درمیان ہے جبکہ رسد صرف 80 سے 85 میگاواٹ ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 25 فیصد لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔
دیگر علاقوں میں نیٹروکونا کے بعض حصوں کے صارفین نے بتایا کہ دن اور رات کی مجموعی بندش 18 گھنٹے تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح نیلفاماری کے ڈومار میں بجلی کے دفتر نے بھی پولیس سے مدد طلب کی ہے۔
سلیٹ میں بار بار بجلی بند ہونے کے باعث بعض دیہی علاقوں میں تقریباً نصف دن بجلی دستیاب نہیں ہوتی، جبکہ شہر کے رہائشیوں نے تقریباً ہر گھنٹے بجلی کی بندش کی شکایت کی ہے۔ طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف مشتعل شہریوں نے منگل کی رات ٹوکر بازار میں سلیٹ-سونام گنج شاہراہ بھی بند کردی۔
سلیٹ الیکٹریسٹی ڈیولپمنٹ بورڈ کے مطابق دوپہر کے وقت بجلی کی طلب 247 میگاواٹ جبکہ رسد 202 میگاواٹ تھی، جس سے 45 میگاواٹ کی کمی رہی۔ چیف انجینئر امام حسین نے کہا کہ ادارہ نیشنل گرڈ سے جتنی بجلی حاصل کررہا ہے، وہی صارفین میں تقسیم کی جارہی ہے اور رسد بہتر ہونے تک لوڈشیڈنگ جاری رہے گی۔
طویل بجلی بندش نے گھریلو زندگی اور معاشی سرگرمیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ بچے، بزرگ اور بیمار افراد شدید گرمی میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ بجلی پر انحصار کرنے والے طلبہ اور کاروباری ادارے بھی متاثر ہورہے ہیں۔
بحران نے ماہی گیری، پولٹری اور زراعت کے شعبوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ پٹوکھالی کے مرزا گنج میں رات کے وقت بار بار بجلی بند ہونے سے عروج پر پہنچنے والے ہلسا مچھلی کے شکار کے موسم میں برف کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ برف کی پیداوار معمول کی صلاحیت کے تقریباً ایک تہائی تک رہ گئی ہے جبکہ اس کی قیمتیں دوگنی ہوگئی ہیں۔
کھلنا میں جھینگا فارمرز کو بھی نقصان ہورہا ہے کیونکہ بجلی کی بندش کے باعث وہ پانی میں آکسیجن فراہم کرنے والے ایریٹرز نہیں چلاسکتے۔
جیسور سمیت مختلف علاقوں کے پولٹری فارمز نے شدید گرمی اور بجلی کی بندش کے باعث مرغیوں کی ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔ جنریٹر چلانے کے لیے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے چھوٹے کاروباروں پر بھی اضافی مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔
بجلی کی قلت کے باعث آبپاشی کے کام میں بھی تاخیر ہورہی ہے، جبکہ کومیلا اور جے پور ہاٹ میں کولڈ اسٹوریج مراکز بیج اور آلو محفوظ رکھنے کے لیے اضافی ڈیزل خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔










