نئی دہلی، 12 اگست (یو این آئی) عام آدمی پارٹی (عآپ) نے دہلی حکومت کی طرف سے اسکول کی طالبات میں تقسیم کی جانے والی سائیکلوں کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے سرکاری اور ریٹیل میں خریدی گئی سائیکل کو سامنے رکھ کر سوال اٹھائے ہیں۔
عآپ کے دہلی کے ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں دونوں سائیکلیں دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جس سائیکل کو حکومت نے 6,957 روپے میں خریدا، وہی سائیکل بازار میں 4,200 روپے میں دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تقریباً 1.30 لاکھ سائیکلیں خریدی ہیں اور دونوں سائیکلوں کی کوالٹی میں بھی فرق ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریٹیل میں خریدی گئی سائیکل 4,000 روپے کی ہے، جس پر 200 روپے ٹیکس کے ساتھ اس کی قیمت 4,200 روپے پڑی۔ ان کے مطابق، اس میں برانڈڈ ٹائر، رم اور ایلومینیم کے بریک ہیں، جبکہ سرکاری سائیکل میں نسبتاً سستے اور لوکل پارٹس لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے سرکاری سائیکل پر لگے اسکائلراسٹیکر کو بھی مبینہ طور پر نقلی بتاتے ہوئے کہا کہ متعلقہ ماڈل کی تیاری کمپنی نے بند کر دی ہے۔
براڑی کے عآپ ایم ایل اے سنجیو جھا نے الزام لگایا کہ سائیکل کی خریداری میں کروڑوں روپے کا کرپشن ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹینڈر کے عمل کے دوران کچھ تاجروں نے اس سے کم قیمت پر سائیکل فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔ اس کے باوجود زیادہ قیمت پر خریداری کی گئی اور حکومت اس معاملے میں بحث سے بچ رہی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ سے وزیرِ تعلیم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے کارروائی نہیں کی تو پارٹی معاملے کی شکایت اینٹی کرپشن بیورو اور سی بی آئی سے کرے گی۔










