سیئول، 10 اگست (یو این آئی) جنوبی کوریا اور امریکہ 17 سے 27 اگست تک بڑے پیمانے پر مشترکہ فوجی مشقیں کریں گے، جن میں ڈرون حملوں، جی پی ایس نظام میں خلل اور سائبر جنگ سمیت ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ حکام نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
دونوں ممالک کی مسلح افواج کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق سالانہ ’الچی فریڈم شیلڈ‘ (یو ایف ایس) مشقوں میں اتحادی ممالک کی جانب سے حقیقی سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت کو جانچا جائے گا، جبکہ یہ مشقیں جنوبی کوریا کی حکومت کی ملک گیر ہنگامی تیاری کی مشقوں میں بھی معاونت کریں گی۔
مشقوں میں بدلتے ہوئے خطرات کی مصنوعی منظرناموں کے ذریعے مشق اور جامع مشترکہ فوجی کارروائیاں شامل ہوں گی، جن کا مقصد جنوبی کوریا اور امریکی افواج کی تیاری اور صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
جنوبی کوریا اور امریکہ ہر سال دو بڑی مشترکہ فوجی مشقیں کرتے ہیں: موسم بہار میں ’فریڈم شیلڈ‘ اور موسم گرما میں ’الچی فریڈم شیلڈ‘۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے کہا کہ رواں سال کی مشقیں جنگ کے دوران آپریشنل کنٹرول واشنگٹن سے سیئول کو مشروط طور پر منتقل کرنے کی تیاریوں میں بھی معاونت کریں گی۔
کمبائنڈ فورسز کمانڈ، اقوام متحدہ کمانڈ اور امریکی فورسز کوریا کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر کرنل ریان ڈونلڈ نے کہا کہ یہ مشقیں جدید جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کی عکاسی کرتی ہیں، جس میں بغیر پائلٹ کے نظام، الیکٹرانک جنگ اور سائبر کارروائیوں کا بڑھتا ہوا استعمال شامل ہے۔
ڈونلڈ نے شمالی کوریا کے سرکاری نام ’ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’ڈی پی آر کے کے فوجیوں نے یوکرین میں تعیناتی کے دوران جنگ میں حصہ لیا ہے اور وہاں حاصل کیے گئے تجربات کو واپس شمالی کوریا لے گئے ہیں۔‘‘
دونوں اتحادی اس وقت جنگ کے دوران آپریشنل کنٹرول کی منتقلی کے لیے تین مرحلوں پر مشتمل منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل کر رہے ہیں۔ جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ 2030 میں اپنی مدت ختم ہونے سے پہلے، یا اس سے بھی پہلے، یہ منتقلی مکمل کرنا چاہتی ہے۔ تاہم امریکہ نے زور دیا ہے کہ اس عمل کی تکمیل سے قبل تمام ضروری شرائط کا مکمل طور پر پورا ہونا ضروری ہے۔
جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق اتحادی افواج ’وارئیر شیلڈ‘ کے نام سے فیلڈ ٹریننگ مشقیں بھی کریں گی۔ یہ مشقیں مصنوعی منظرناموں سے منسلک ہوں گی، جن کا مقصد فوجی کارروائیوں میں حقیقت پسندی بڑھانا اور جنگی تیاری بہتر بنانا ہے۔
رواں سال بٹالین سطح یا اس سے بڑی سطح کی مجموعی طور پر 14 فیلڈ ٹریننگ مشقیں منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے مقابلے میں 2025 کی ’الچی فریڈم شیلڈ‘ مشقوں کے دوران بٹالین یا کمپنی سطح کی 39 فیلڈ مشقیں کی گئی تھیں۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے کیپٹن جانگ دو یونگ نے بتایا کہ رواں سال کی مشقوں میں تقریباً 18,000 جنوبی کوریائی فوجی حصہ لیں گے، جو گزشتہ برسوں کے تقریباً برابر تعداد ہے۔
اقوام متحدہ کمانڈ، جو 1950 سے 1953 کی کوریائی جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی نگرانی کرتی ہے، بھی اپنی 18 رکن ریاستوں میں سے 12 ممالک کے تقریباً 70 اضافی اہلکاروں کو مشقوں میں شرکت کے لیے بھیجے گی۔







