نئی دہلی، 10 اگست ( یواین آئی ) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تہلکہ میگزین کے سابق چیف ایڈیٹر ترون تیج پال کی سزا پر کانگریس رہنماؤں کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے تہلکہ میگزین اور تیج پال سے تعلقات کے حوالے سے کانگریس سے موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بی جے پی کے قومی ترجمان سدھانشو ترویدی نے پیر کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ حال ہی میں تہلکہ میگزین کے چیف ایڈیٹر ترون تیج پال کو بمبئی ہائی کورٹ کی گوا بینچ نے 2013 کے ریپ کے ایک معاملے میں 10 سال کی قیدِ با مشقت کی سزا سنائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ موضوع آج اس لیے اہم ہے کہ اتنے دن گزر جانے کے بعد بھی کانگریس کی طرف سے اس مسئلے پر ایک بھی لفظ سنائی نہیں دیا ہے۔ نہ ہی کسی اپوزیشن جماعت کی طرف سے اور نہ ہی خود کو خواتین کے حقوق کا نام نہاد محافظ بتانے والے کسی ادارے نے کچھ کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2021 میں نچلی عدالت سے بری ہونے کے بعد تیج پال نے ریپ کے اس معاملے میں مدد کے لیے کانگریس کا شکریہ ادا کیا تھا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی ہو یا خواتین کا استحصال، ان موضوعات پر ان کی سوچ کتنی یکطرفہ اور تعصب پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہلکہ وہی تجارتی ادارہ ہے، جس نے ایک عجیب قسم کا اسٹنگ آپریشن کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی حکومت نے جسٹس فوکن کی صدارت میں انکوائری کمیشن قائم کیا، تو یہ ایک ایسا موقع تھا جب اسٹنگ کرنے والے گروپ نے پورے ٹیپ کی تصدیق کے لیے اسے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس سے زیادہ شبہ اور پیدا نہیں ہو سکتا۔
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ جب تحقیقاتی رپورٹ آئی، تب تک حکومت بدل چکی تھی اور کانگریس حکومت نے اس تحقیقاتی رپورٹ کو ایوان کے فلور پر کبھی رکھا ہی نہیں۔ انہوں نے کہا، "بی جے پی کے اس معاملے کو اٹھانے پر حکومت کی طرف سے 41 صفحات کی رپورٹ ایوان کے فلور پر رکھی گئی تھی اور آج جب وہ مجرم ثابت ہو چکے ہیں، تو میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ان کا اور کانگریس کا کیا تعلق ہے۔” انہوں نے الزام لگایا کہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کے دور میں کانگریس کی اعلیٰ رہنما محترمہ سونیا گاندھی نے 25–27 ستمبر 2004 کواس وقت کے وزیرِ خزانہ پی چدمبرم کو خط لکھا تھا کہ تہلکہ اور اس کے مالی امداد دہندگان کے ساتھ کسی قسم کا ناروا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے ساتھ مثبت رویہ اپنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "میں آج کانگریس سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اس وقت آپ کی حکومت نا مناسب رویہ اپنا رہی تھی؟”
انہوں نے کہا کہ 2010 میں اس وقت کے وزیرِ قانون ویرپا موئلی نے انہیں صحافت میں بہترین کارکردگی کا ایوارڈ دیا تھا۔ آج ان کی یہ حالت ہے اور آپ کے منہ سے ایک بھی لفظ نہیں نکل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے سینئر رہنما دگوجے سنگھ نے کہا تھا کہ انہوں نے فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف لڑائی میں بہترین کام کیا ہے۔









