بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-07-22
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

                پیر کے روز سرینگر میں چند گھنٹوں کی بارش نے ایک مرتبہ پھر اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا کہ وادیٔ کشمیر کا سب سے بڑا شہر معمول کی بارشوں کا بھی بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔ شہر کی شاہراہیں ندیوں کا منظر پیش کرنے لگیں، رہائشی علاقے پانی میں ڈوب گئے، اسپتالوں کے وارڈوں تک میں پانی داخل ہوگیا اور اسمارٹ سٹی کے بلند و بانگ دعوے ایک مرتبہ پھر پانی میں بہتے نظر آئے۔ یہ منظر اگرچہ چند گھنٹوں بعد ختم ہو گیا، لیکن اس نے ایک نہایت سنگین سوال پھر سے ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ اگر یہی بارشیں دو یا تین دن مسلسل جاری رہیں تو کیا سرینگر ایک بار پھر ۲۰۱۴ جیسے تباہ کن سیلاب کی لپیٹ میں آ سکتا ہے؟

                یہ سوال محض خوف پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ زمینی حقائق کی بنیاد پر اٹھایا جا رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں کشمیر میں مجموعی بارشوں کی مقدار کم ضرور ہوئی ہے، مگر بارشوں کا انداز مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ پہلے بارش کئی دنوں میں تقسیم ہو جاتی تھی، اب وہ چند گھنٹوں میں موسلادھار صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس قسم کی شدید بارش کو سنبھالنے کے لیے ایک مضبوط اور جدید نکاسِ آب کا نظام درکار ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے سرینگر آج بھی بنیادی ڈرینیج کے مسئلے سے دوچار ہے۔

                ۲۰۱۴ کا سیلاب کشمیر کی تاریخ کے بدترین قدرتی سانحات میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے نہ صرف ہزاروں گھروں اور کاروباروں کو تباہ کیا بلکہ سرکاری نظام، شہری منصوبہ بندی اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کی کمزوریوں کو بھی پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ اس وقت یہ امید کی جا رہی تھی کہ یہ سانحہ حکومتوں کے لیے ایک سبق ثابت ہوگا اور مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں گے۔ مگر بارہ برس گزرنے کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس سانحے سے سبق سیکھنے کے بجائے اسے صرف سرکاری فائلوں اور تقریروں تک محدود کر دیا گیا۔

متعلقہ

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

کچرے کے ڈھیر پر کھڑی سیاحت

                آج صورت حال یہ ہے کہ چند گھنٹوں کی بارش کے بعد سرینگر کے متعدد علاقے زیر آب آ جاتے ہیں۔ سری نگر میونسپل کارپوریشن کے سربراہ نے اس کی وجہ ’گنجائش سے زیادہ بارش‘ قرار دی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ایک جدید شہر کی گنجائش آخر کتنی ہونی چاہیے؟ اگر چند گھنٹوں کی بارش ہی شہر کے بنیادی ڈھانچے کو مفلوج کر دے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ منصوبہ بندی میں کہیں نہ کہیں سنگین خامی موجود ہے۔

                حقیقت یہ ہے کہ سرینگر کی قدرتی نکاسیٔ آب کا نظام گزشتہ کئی دہائیوں میں مسلسل تباہ کیا گیا ہے۔ وہ دلدلی علاقے، سیلابی میدان اور کھیت جو کبھی اضافی پانی کو جذب کر لیتے تھے، آج کنکریٹ، مٹی بھرائی اور غیر منصوبہ بند تعمیرات کی نذر ہو چکے ہیں۔ بمنہ، ہوکرسر، زینہ کوٹ، نارہ بل، سویہ بگ، حیدرپورہ، راولپورہ اور پیر باغ جیسے علاقے، جو کبھی قدرتی حفاظتی بفر کا کردار ادا کرتے تھے، اب خود پانی میں ڈوبنے لگے ہیں۔ڈال جھیل کے اطراف اور شہر کے دیگر نشیبی علاقوں میں تجاوزات نے قدرتی آبی ذخائر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

                اس کے ساتھ ساتھ قومی شاہراہ نمبر ۴۴ اور سیمی رنگ روڈ جیسے بڑے ترقیاتی منصوبوں نے بھی وادی کے قدرتی آبی راستوں کو متاثر کیا ہے۔ گالندر، پانپور اور کھادرموہ،کھنموہ کے وسیع دلدلی علاقوں میں مٹی بھرنے سے وہ نہریں، کھالیں اور قدرتی گزرگاہیں بند ہو گئیں جن کے ذریعے بارش کا پانی جھیلوں اور دریاؤں تک پہنچتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ برس معمول کی مون سون بارشوں کے دوران پانپور سے نوگام تک کا علاقہ جھیل کا منظر پیش کرنے لگا تھا۔

                یہاں ایک اور اہم پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ۲۰۱۴ کے سیلاب کے بعد عالمی بینک نے جموں و کشمیر میں سیلاب سے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے تقریباً تین سو کروڑ روپے فراہم کیے تھے۔ ان فنڈز کے تحت سرینگر میں انچاس اسٹورم واٹر پمپنگ اسٹیشن قائم کیے جانے تھے تاکہ نشیبی علاقوں سے بارش کا پانی فوری طور پر باہر نکالا جا سکے۔ اگرچہ بعض مقامات پر یہ منصوبے مکمل بھی ہوئے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ شہر میں پانی جمع ہونے کا مسئلہ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا ہے۔

                مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ بعض پمپنگ اسٹیشن گندے پانی اور سیوریج کو براہ راست دودھ گنگا میں خارج کر رہے ہیں، جو نہ صرف ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ وادی کے آبی وسائل کو بھی آلودہ کر رہا ہے۔ یعنی ایک طرف عوامی سرمایہ خرچ کیا گیا اور دوسری طرف ماحولیات کو بھی نقصان پہنچایا گیا، مگر شہریوں کو اس کا مطلوبہ فائدہ نہیں ملا۔

                یہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران سیلاب سے تحفظ کے نام پر خرچ ہونے والے تمام فنڈز کا آزادانہ، شفاف اور جامع آڈٹ کیا جائے۔ صرف مالی بے ضابطگیوں کا جائزہ لینا کافی نہیں ہوگا بلکہ ایک ماحولیاتی آڈٹ بھی ناگزیر ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ ترقیاتی منصوبوں نے قدرتی آبی نظام کو کس حد تک متاثر کیا ہے۔ اگر کہیں منصوبہ بندی میں کوتاہی یا وسائل کے غلط استعمال کے شواہد ملتے ہیں تو متعلقہ اداروں اور افسران کا احتساب بھی ہونا چاہیے۔

                تاہم احتساب ہی کافی نہیں ہوگا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وادی کے قدرتی ماحولیاتی نظام کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ دلدلی علاقوں پر مزید قبضوں کو روکنا، غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ، قدرتی آبی گزرگاہوں کی بحالی، جہلم اور اس سے منسلک نہروں کی باقاعدہ صفائی، برساتی پانی کے ذخیرے کے جدید نظام، اور موسمیاتی تبدیلی کے مطابق شہری منصوبہ بندی کو فوری ترجیح دینی ہوگی۔ ترقی کا مطلب صرف نئی سڑکیں، فلائی اوور اور عمارتیں تعمیر کرنا نہیں بلکہ ایسے شہر تعمیر کرنا بھی ہے جو قدرتی آفات کا مقابلہ کر سکیں۔

                یہ امر بھی قابل غور ہے کہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث انتہائی شدید بارشوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کشمیر بھی اس عالمی تبدیلی سے محفوظ نہیں۔ اگر مستقبل میں تین یا چار روز مسلسل شدید بارش ہوتی ہے تو موجودہ حالات میں سرینگر کو ایک نئے بڑے سانحے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں صرف قدرتی آفت کو ذمہ دار ٹھہرانا انصاف نہیں ہوگا، کیونکہ انسانی غلط منصوبہ بندی اور ماحول دشمن ترقی بھی اس تباہی میں برابر کی شریک ہوگی۔

                حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو وقتی بارشوں کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے قومی سلامتی، شہری تحفظ اور ماحولیاتی بقا کے مسئلے کے طور پر دیکھے۔ آج اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو آنے والی نسلیں اس غفلت کی بھاری قیمت ادا کریں گی۔

                ۲۰۱۴ کے سیلاب نے ہمیں ایک موقع دیا تھا کہ ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے۔ افسوس کہ ہم نے اس موقع کو ضائع کر دیا۔ اب بھی وقت ہاتھ سے مکمل طور پر نہیں نکلا، لیکن اس کے لیے سنجیدہ سیاسی عزم، سائنسی منصوبہ بندی، شفاف احتساب اور ماحول دوست ترقیاتی حکمت عملی ناگزیر ہے۔

                سرینگر کو صرف پانی سے نہیں بلکہ غلط فیصلوں سے بھی خطرہ لاحق ہے۔ اگر قدرتی آبی گزرگاہوں کو بحال نہ کیا گیا، دلدلی علاقوں کو بچانے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے اور نکاسِ آب کے نظام کو جدید خطوط پر استوار نہ 

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

دہلی کی بے دلی!

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

2026-07-21
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کچرے کے ڈھیر پر کھڑی سیاحت

2026-07-19
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

2026-07-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

تعلیمی اداروں میں قابلِ اعتراض لٹریچر

2026-07-09

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.