سرینگر؍۲۰جولائی
جموں و کشمیر کے سرینگر میں واقع شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں پیر کے روز طلبہ نے ہندستانی خلا باز گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا سے ملاقات کی۔
خراب موسم کے باوجود چنار بک فیسٹیول کے تیسرے دن سیکڑوں بچے، طلبہ، اساتذہ اور اہلِ خانہ شبھانشو شکلا سے ملنے کے لیے بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔ اس موقع پر۲۲۰۰ سے زائد بچوں نے پرجوش تالیاں بجا کر اپنے پسندیدہ خلائی ہیرو کا استقبال کیا۔ انہوں نے اسٹیج پر آتے ہی گرمجوشی اور خوش مزاج انداز میں حاضرین سے گفتگو کی۔
چنار بک فیسٹیول کے چیف آرگنائزر امت وانچو کی نظامت میں ہونے والے سیشن میں شبھانشو شکلا نے ہندستانی فضائیہ کے پائلٹ سے لے کر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) تک پہنچنے والے پہلے ہندستانی بننے کے اپنے متاثر کن سفر کی داستان سنائی۔ انہوں نے کہا کہ خلا تک ان کا سفر صرف ان کا ذاتی سفر نہیں بلکہ پورے ہندوستان کا سفر تھا۔ انہوں نے خلا میں گزارے گئے۲۰ دنوں اور اس کے لیے پانچ برس تک جاری رہنے والی سخت تربیت کا ذکر کرتے ہوئے طلبہ کو کامیابی کے لیے نظم و ضبط اپنانے کی تلقین کی۔
شکلا نے اپنی تربیت اور خلائی سفر کی ویڈیو کلپس بھی دکھائیں اور آسان اور دلچسپ انداز میں پیچیدہ سائنسی تصورات کو سمجھایا۔ راکٹ کے انجن کے چلنے کے لمحے کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ اپنی ساری تربیت جیسے بھول گئے تھے۔ انہوں نے اس احساس کو اس طالب علم کی گھبراہٹ سے تشبیہ دی جو ہفتوں کی تیاری کے بعد امتحان کا پرچہ دیکھتے ہی محسوس ہوتی ہے۔
شبھانشو شکلا نے خلا میں زیرو گریویٹی کی وجہ سے قد میں معمولی اضافہ ہونے، آئی ایس ایس کے اندر دیواروں پر چلنے، زمین پر واپس آنے کے بعد کششِ ثقل کو بھول کر اپنا لیپ ٹاپ گرا دینے اور دوبارہ چلنا سیکھنے جیسے دلچسپ اور یادگار واقعات بھی سنائے۔
انہوں نے اپنے مشن کمانڈر، امریکی خلا باز ڈاکٹر پیگی وِٹسن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ خلا میں جانے سے پہلے انہیں نو مرتبہ مسترد کیا گیا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ بعد ازاں وہ خلا میں۶۰۰ سے زیادہ دن گزارنے والی اور کسی بھی امریکی خلا باز کے مقابلے میں سب سے زیادہ وقت خلا میں رہنے والی شخصیت بن گئیں۔ شبھانشو شکلا نے کہا کہ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلسل کوشش کرنے والوں کو آخرکار کامیابی ضرور ملتی ہے۔
انہوں نے ہندستان کے گگن یان مشن، مستقبل کے ہندستانی خلائی اسٹیشن اور۲۰۴۰ تک کسی ہندستانی کو چاند پر بھیجنے کے منصوبے کے بارے میں بھی طلبہ کو آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ خلا میں ہندستان کے مستقبل کی قیادت آج کی نوجوان نسل کرے گی، بشرطیکہ وہ خود پر شک کرنے کے بجائے سیکھنے اور نئی چیزیں دریافت کرنے کا جذبہ برقرار رکھے۔ انہوں نے کہا’’ممکن ہے کہ اسی ہال میں بیٹھا کوئی بچہ ایک دنہندستان کا ترنگا زمین سے بہت آگے خلا میں لے جائے‘‘۔
شکلا نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا، آسمان کبھی بھی آخری حد نہیں تھا، نہ میرے لیے اور نہ ہی آپ کے لیے۔
اس سیشن کی خاص بات طلبہ کے ساتھ سوال و جواب کا دلچسپ مرحلہ تھا۔ جیسے ہی سوال پوچھنے کا موقع ملا، درجنوں ہاتھ فضا میں بلند ہوگئے، جس سے بچوں کے جوش اور تجسس کا بخوبی اندازہ ہوا۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں زندگی، خلا بازوں کی تربیت، خلائی تحقیق کے چیلنجز اور ہندستان کے خلائی مستقبل سے متعلق بچوں نے نہایت دلچسپ اور فکر انگیز سوالات کیے۔ گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا نے ہر سوال کا تحمل، حاضر جوابی اور انکساری کے ساتھ جواب دیا اور ہر جواب کو تجسس، سیکھنے اور نئی دریافتوں کی اہمیت سے جوڑ دیا۔










