ڈی آئی پی آر
سرینگر؍۲۰ جولائی
محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کی جانب سے شدید سے انتہائی شدید بارش، گرج چمک، آسمانی بجلی اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی کے پیش نظر کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ڈی سی ایل) نے عوام کے لیے ایک جامع حفاظتی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے اپنے تمام فیلڈ عملے کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ، برقی ڈھانچے کی حفاظت اور ضروری بجلی کی خدمات کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
چیف انجینئر، ڈسٹری بیوشن، کے پی ڈی سی ایل کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ خراب موسمی حالات کے باعث درختوں کے گرنے، لینڈ سلائیڈنگ، پانی جمع ہونے اور سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جس سے اوورہیڈ بجلی کی لائنیں، ٹرانسفارمر، بجلی کے کھمبے اور دیگر برقی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ عوامی تحفظ اور مرمتی کاموں کی انجام دہی کے لیے بعض علاقوں میں عارضی طور پر بجلی کی فراہمی معطل بھی کی جا سکتی ہے۔
ایڈوائزری میں عوام کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ خراب موسم کے دوران بجلی کی تاروں، کھمبوں، ٹرانسفارمروں، فیڈر پیلرز یا دیگر برقی تنصیبات کے قریب نہ جائیں، کیونکہ کرنٹ لیک ہونے کی صورت میں یہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ زمین پر گری ہوئی بجلی کی ہر تار یا نقصان زدہ کھمبے کو بجلی سے بھرپور اور انتہائی خطرناک تصور کیا جائے۔
عوام سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہاں پانی جمع ہو اور وہاں برقی تنصیبات یا اوورہیڈ لائنیں موجود ہوں، ایسے مقامات سے گریز کریں اور سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کے ڈھانچے کے قریب سے گزرنے سے اجتناب کریں۔
رہائشیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ بارش کے دوران یا گیلی سطح پر کھڑے ہو کر کسی بھی قسم کی برقی مرمت کی کوشش نہ کریں۔ اگر گھروں یا تجارتی عمارتوں میں پانی داخل ہو جائے تو صرف اس صورت میں مین بجلی سپلائی بند کریں جب یہ کام مکمل طور پر محفوظ انداز میں کیا جا سکے۔
ایڈوائزری میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثر ہونے والے علاقوں کے مکینوں کو خصوصی طور پر محتاط رہنے کی ہدایت دی گئی ہے، کیونکہ پانی جمع ہونے، مٹی کے کٹاؤ، درخت گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث برقی ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح مشینری چلاتے وقت، درختوں کی کانٹ چھانٹ یا دیگر بیرونی سرگرمیوں کے دوران اوورہیڈ بجلی کی لائنوں سے محفوظ فاصلہ رکھنے اور گرج چمک کے دوران بجلی کے کھمبوں، ٹرانسفارمروں یا اوورہیڈ لائنوں کے نیچے پناہ نہ لینے کی بھی تلقین کی گئی ہے۔
کارپوریشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کہیں بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچے، چنگاریاں نکل رہی ہوں، تار ٹوٹ جائے، کھمبا ٹیڑھا ہو جائے یا کوئی اور خطرناک صورتحال نظر آئے تو فوری طور پر قریبی کے پی ڈی سی ایل دفتر کو اطلاع دیں۔ صارفین سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ بجلی بحالی کی ٹیموں سے تعاون کریں اور برقی تنصیبات تک ان کی رسائی میں رکاوٹ نہ بنیں تاکہ بجلی کی بحالی کا کام جلد مکمل کیا جا سکے۔
ادھر کے پی ڈی سی ایل نے تمام سپرنٹنڈنگ انجینئروں، ایگزیکٹو انجینئروں، سب ڈویژنل افسران اور فیلڈ عملے کو خراب موسم کے دوران تقسیمی نظام کی مسلسل نگرانی کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ہنگامی امدادی ٹیموں کو مناسب افرادی قوت، گاڑیوں، آلات، حفاظتی سازوسامان، بجلی کے کھمبوں، تاروں، ٹرانسفارمروں اور دیگر مرمتی سامان کے ساتھ مکمل طور پر تیار رہنے کو کہا گیا ہے۔ ساتھ ہی اسپتالوں، صحت کے مراکز، آبی سپلائی تنصیبات، مواصلاتی مراکز، سیکورٹی اداروں اور دیگر ضروری خدمات کی بجلی بحال رکھنا اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے۔
فیلڈ افسران کو حساس فیڈروں، سب اسٹیشنوں، ٹرانسفارمروں اور اوورہیڈ لائنوں کا پیشگی معائنہ کرنے، مرمتی کاموں کے دوران تمام حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل کرنے اور سڑک بند ہونے، لینڈ سلائیڈنگ یا درخت گرنے کی صورت میں ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
کارپوریشن نے تمام ماتحت دفاتر کو نامزد نوڈل افسر حشمت رسول رینہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے اور خراب موسم کے دوران فیڈروں کی صورتحال سے متعلق ہر گھنٹے رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ کسی بھی بڑے بریک ڈاؤن، طویل بجلی بندش، برقی ڈھانچے کے منہدم ہونے یا عوامی تحفظ سے متعلق واقعے کی فوری اطلاع دینے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
کے پی ڈی سی ایل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ چوکنا رہیں، سرکاری حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور بجلی کی بحالی میں مصروف عملے سے مکمل تعاون کریں۔ کارپوریشن نے تمام افسران اور اہلکاروں کو اگلے احکامات تک اس ایڈوائزری پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔










