علیحدگی پسندی کی مبینہ ستائش پر مبنی دو متنازع کتابوں کی تحقیقات تیز
ایجنسیاں
جموں؍۶ جولائی
جموں و کشمیر پولیس کے کاؤنٹر انٹیلی جنس)سی آئی کے) وِنگ نے پیر کے روز علیحدگی پسند عناصر کی مبینہ ستائش پر مبنی دو متنازع اشاعتوں کے سلسلے میں جموں اور نوئیڈا میں بیک وقت مختلف مقامات پر تلاشی کارروائیاں انجام دیں۔ سرکاری حکام نے یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق کاؤنٹر انٹیلی جنس کی ایک ٹیم نے شہر کے مضافاتی علاقے چھنی ہمت میں واقع سمگرا شکشا کے ہیڈکوارٹر پر چھاپہ مارا اور جاری تحقیقات کے سلسلے میں ڈائریکٹر اور دیگر متعلقہ عہدیداروں سے پوچھ گچھ کی۔
حکام نے بتایا کہ ایک دوسری ٹیم نے اسی دوران نوئیڈا میں ایک اشاعتی ادارے کے دفتر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی۔
انہوں نے کہا کہ آخری اطلاعات موصول ہونے تک دونوں مقامات پر تلاشی کارروائیاں جاری تھیں۔
تنازع کا مرکز بننے والی کتابوں میں ایک’Personalities and Legends of J&K‘ ہے، جس کے مصنف ہلال احمد اور سنتوش مینا ہیں اور اسے جموں کے اوبیرائے بک سروس نے شائع کیا ہے۔ دوسری کتاب’Great Personalities of Jammu and Kashmir‘ہے، جس کے مصنف سشانت گیری ہیں اور اسے دہلی کے انوراگ پرکاشن نے شائع کیا ہے۔
حکام کے مطابق ان میں سے ایک کتاب کی۱۲۳ کاپیاں جموں، رام بن اور ادھم پور اضلاع کو فراہم کی گئی تھیں، جبکہ دوسری کتاب کی۱۲۸ کاپیاں جموں اور بارہمولہ اضلاع میں تقسیم کی گئی تھیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتہ درج کی گئی ایف آئی آر میں بھارتیہ نیایا سنہتا کی دفعات۴۹ (اشتعال دلانا)‘۶۱(۲)(مجرمانہ سازش)‘۱۵۲ (ہندوستان کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنا)‘۱۹۶ (دشمنی اور منافرت کو فروغ دینا)،۳۵۳ (جھوٹے بیانات، افواہیں یا رپورٹس شائع یا گردش کرنا) کے علاوہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ کی دفعہ۱۳ بھی شامل کی گئی ہے۔
حکام نے بتایا کہ ہفتہ کے روز مقدمہ درج کیے جانے کے بعد کاؤنٹر انٹیلی جنس یونٹ نے جموں شہر کے باہو پلازہ میں واقع ناشر کے دفتر پر بھی چھاپہ مارا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ تلاشی کارروائیاں جاری تحقیقات کے تحت مقدمے سے متعلق مواد جمع کرنے کے مقصد سے انجام دی گئیں۔
حکام کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے اس دوران دستاویزی ریکارڈ کے علاوہ ڈیجیٹل شواہد بھی ضبط کیے ہیں، تاہم ابھی تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
واضح رہے کہ ہفتہ کے روز جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اسکولی تعلیم محکمہ کے آٹھ عہدیداروں کو معطل کر دیا تھا، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی تھیں اور ان دو متنازع کتابوں کی جانچ کا حکم دیا تھا، جن میں مبینہ طور پر’انتہائی نامناسب مواد‘ شامل تھا۔
یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب بی جے پی، کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں نے ان کتابوں پر اعتراض کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان میں علیحدگی پسندی کی مبینہ طور پر ستائش کی گئی ہے۔محکمہ اسکولی تعلیم نے اپنے ایک حکم نامے میں کہا کہ مذکورہ دونوں کتابیں جمعہ کے روز ہی واپس لے لی گئی تھیں۔ (پی ٹی آئی)









