خواتین کی قیادت سے سماج کی ہمہ جہت ترقی ممکن‘ ہر بچی اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا اعتماد رکھے: منوج سنہا
سنہانے کشمیر ویمنز آرگنائزیشن فیلوشپ کی۳۲ منتخب خواتین کو اعزاز سے نوازا‘انہیں باوقار مستقبل کی علامت قرار دیا
(ویب ڈیسک)
سری نگر؍۶جولائی
لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے کہا ہے کہ خواتین کی ترقی ہی سماج کی ترقی کی ضمانت ہے اور ایک ترقی یافتہ جموں و کشمیر کی تعمیر میں خواتین کا بااختیار ہونا بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
سنہا نے کہا کہ وہ ایسا جموں و کشمیر دیکھنا چاہتے ہیں جہاں خواتین تعلیم، صنعت، انتظامیہ، سماجی تنظیموں، فن اور ادب سمیت ہر شعبے میں قیادت کریں، جبکہ ہر بچی اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا اعتماد رکھے۔
ایل جی نے یہ بات کشمیر ویمنز آرگنائزیشن(کے ڈبلیو او) فیلوشپ حاصل کرنے والی۳۲ خواتین کو اعزاز سے نوازنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے فیلوشپ حاصل کرنے والی خواتین کو جموں و کشمیر کی مثبت تبدیلی، خود اعتمادی، مساوی مواقع اور باوقار مستقبل کی علامت قرار دیا۔
سنہا نے ڈاکٹر فدا فردوس اور کشمیر ویمنز آرگنائزیشن کے تمام اراکین کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خطے کی خواتین کو اپنی صلاحیتوں، خیالات اور شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے اور جموں و کشمیر کے روشن مستقبل کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ’’مختصر عرصے میں کشمیر ویمنز آرگنائزیشن امید، اعتماد اور مثبت تبدیلی کا ایک مؤثر مرکز بن کر ابھری ہے۔ یہ فیلوشپ پروگرام اجتماعی ذمہ داری اور باہمی تعاون کی ایک بہترین مثال ہے‘‘۔
ایل جی نے کہا کہ ان خواتین نے معاشرے میں موجود فرسودہ تصورات کو چیلنج کرتے ہوئے نئی مثال قائم کی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک نئی راہ ہموار کی ہے۔ ان کی خدمات آئندہ برسوں تک حوصلہ افزائی، اعتماد اور رہنمائی کا ذریعہ بنی رہیں گی۔
سنہا نے جموں و کشمیر کی تاریخی شخصیات رانی ڈڈہ، کوٹا رانی، لل دید، حبہ خاتون اور ماتا روپ بھوانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان عظیم خواتین نے جموں و کشمیر کی تہذیب، شعور اور ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا اور یہاں کی خواتین ہمیشہ ہر شعبے میں کامیابی کی بلندیاں سر کرتی رہی ہیں۔ایل جی نے کہا’’میں چاہتا ہوں کہ جموں و کشمیر کی خواتین خطے کی ترقی کی قیادت کریں۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر کی خواتین کو ان کے جائز حقوق فراہم کیے اور امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا۔انہوں نے جموں و کشمیر کے لیے خواتین کی قیادت پر مبنی ایک ترقی پسند وژن پیش کرتے ہوئے کہا’’خواتین کو بااختیار بنانا ترقی یافتہ جموں و کشمیر کی کنجی ہے، کیونکہ خواتین کی ترقی ہی معاشرے کی ترقی کو یقینی بناتی ہے۔ میں ایسا جموں و کشمیر دیکھنا چاہتا ہوں جہاں خواتین تعلیم، صنعت، سماجی تنظیموں اور نظم و نسق میں قیادت کریں، پالیسیاں تشکیل دیں، صنعت و تجارت کو فروغ دیں اور فن و ادب کے ذریعے ہماری ثقافت کو مزید مالا مال بنائیں‘‘۔
سنہا نے مزید کہا’’میں ایسا جموں و کشمیر دیکھنا چاہتا ہوں جہاں ہر بچی اس یقین کے ساتھ پروان چڑھے کہ اس کے خواب قیمتی ہیں، اس کی آواز بااثر ہے اور اس کے مستقبل میں لامحدود امکانات موجود ہیں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے امید ظاہر کی کہ کشمیر ویمنز آرگنائزیشن کا یہ فیلوشپ پروگرام معاشرے میں اس بنیادی سوچ کو فروغ دے گا کہ خواتین کو سماجی، ثقافتی، اقتصادی اور سیاسی زندگی کے ہر شعبے میں مساوی اور باوقار شرکت کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں خواتین کو عزت و احترام دینے کے اپنے عزم پر قائم رہنا ہوگا اور ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار لا سکیں۔
سنہا نے کہا’’جب خواتین ترقی کرتی ہیں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے، جب خواتین قیادت کرتی ہیں تو قوم نئی بلندیوں کو چھوتی ہے، اور جب خواتین اپنے خواب پورے کرتی ہیں تو پوری دنیا زیادہ منصفانہ، ہمدرد اور خوشحال بنتی ہے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے خواتین میں بڑھتے ہوئے منشیات کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے فیلوشپ حاصل کرنے والی خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ اس مسئلے کی بنیادی وجوہات پر خطے کے مطابق ایک جامع مطالعہ کریں تاکہ بحالی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے اور نشے کا شکار ہونے والی خواتین اور بچیوں کی بہتر مدد کی جا سکے۔
اہل جی نے فیلوشپ پروگرام کے دوران رہنمائی فراہم کرنے والے سرپرستوں (منٹورز) کی خدمات کو بھی سراہا اور امید ظاہر کی کہ کشمیر ویمنز آرگنائزیشن کی کاوشیں آئندہ بھی خواتین کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کا ذریعہ بنیں گی۔










