ایجنسیاں
شوپیاں؍۶ جولائی
جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں ضلعی انتظامیہ نے عوامی تحفظ، شور کی آلودگی اور سکیورٹی کارروائیوں میں ممکنہ خلل کے خدشات کے پیش نظر آئندہ دو ماہ تک رات۱۰ بجے کے بعد ہر قسم کی آتش بازی پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ششیِر گپتا کی جانب سے پیر کے روز بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کی دفعہ۱۶۳ کے تحت جاری کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی تاکہ عوامی پریشانی کو روکا جا سکے اور ضلع میں امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔
حکم نامے کے مطابق ضلع شوپیاں کی حدود میں رات ۱۰بجے کے بعد ہر قسم کے پٹاخے، فضائی آتش بازی اور لڑی والے پٹاخے چلانے پر مکمل پابندی ہوگی۔انتظامیہ نے کہا ہے کہ رات کے وقت پٹاخوں سے پیدا ہونے والا اچانک اور تیز شور عوام میں خوف و ہراس پیدا کر سکتا ہے، امن عامہ میں خلل ڈال سکتا ہے اور ضلع میں تعینات سکیورٹی فورسز، خصوصاً انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے دوران، الجھن کا باعث بن سکتا ہے۔
حکم نامے میں صحت سے متعلق خدشات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آتش بازی سے پیدا ہونے والی شور کی آلودگی سانس کی تکالیف، دل کی بیماریوں، نیند میں خلل اور دیگر طبی مسائل کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ اس کے منفی اثرات خاص طور پر بزرگوں، شیر خوار بچوں، مریضوں اور طلبہ پر مرتب ہوتے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے کہا کہ یہ پابندی سپریم کورٹ آف انڈیا اور سنٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ کی ان ہدایات کے مطابق عائد کی گئی ہے جن میں شور اور فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے آتش بازی کے اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔
حکم نامے کے مطابق یہ پابندی دو ماہ تک نافذ رہے گی، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے قبل از وقت واپس لیا جا سکتا ہے یا نئے حکم نامے کے ذریعے اس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہتا‘۲۰۲۳ کی دفعہ۲۲۳؍ اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ معاملے کی ہنگامی نوعیت کے پیش نظر یہ حکم یک طرفہ طور پر جاری کیا گیا ہے اور اس کی تشہیر سرکاری نوٹس بورڈز، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے کی جائے گی۔










