ایجنسیاں
جموں؍۶ جولائی
قو می تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے پیر کے روز پہلگام دہشت گرد حملہ کیس میں پاکستان میں مقیم دہشت گرد، لشکرِ طیبہ/دی ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ اور بانی حافظ سعید کے خلاف فردِ جرم عائد کر دی۔
سرکاری بیان کے مطابق این آئی اے نے جموں میں واقع این آئی اے کی خصوصی عدالت میں داخل کی گئی اپنی ضمنی چارج شیٹ میں حافظ سعید کو انفرادی حیثیت کے ساتھ ساتھ کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ اور اس کی فعال ذیلی تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ کی حیثیت سے بھی ملزم نامزد کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزم کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہتا ‘۲۰۲۳؍اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ‘۱۹۶۷ کی مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
این آئی اے نے چارج شیٹ میں ملزم کے خلاف بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے اور سرحد پار سے دہشت گردانہ سازش رچنے سے متعلق تعزیری دفعات بھی شامل کی ہیں۔
یہ ضمنی چارج شیٹ اس سے قبل داخل کی گئی۱۵۹۷ صفحات پر مشتمل اصل چارج شیٹ کا تسلسل ہے، جس میں پاکستان کی مبینہ سازش، حافظ سعید کے کردار اور این آئی اے کی جانب سے سائنسی تحقیقات اور زمینی معائنوں کے دوران جمع کیے گئے شواہد کی تفصیلات شامل ہیں۔
چارج شیٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ۱۵ دسمبر۲۰۲۵ کو داخل کی گئی پہلی چارج شیٹ میں این آئی اے نے پاکستان میں موجود ہینڈلر دہشت گرد ساجد جٹ کو ملزم قرار دیا تھا۔ اس کے علاوہ آپریشن مہادیو کے دوران جولائی۲۰۲۵ میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے تین دہشت گردوں اور گرفتار کیے گئے دو دیگر ملزمان کے خلاف بھی فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
اس سے قبل این آئی اے نے کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ/دی ریزسٹنس فرنٹ کو بھی ایک قانونی ادارے کے طور پر اس حملے کی منصوبہ بندی، سہولت کاری اور عمل درآمد میں کردار ادا کرنے کے الزام میں چارج شیٹ میں شامل کیا تھا۔
جموں و کشمیر کے پہلگام میں۲۲؍ اپریل۲۰۲۵ کو ہونے والے اس مہلک دہشت گرد حملے میں پاکستان کی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردوں نے مذہب کی بنیاد پر شہریوں کو نشانہ بنایا تھا۔
اس حملے میں۲۵ بے گناہ سیاح اور ایک مقامی شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد پولیس اسٹیشن پہلگام، ضلع اننت ناگ میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
جموں و کشمیر پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے بعد حکومتِ ہند کی وزارتِ داخلہ نے یہ مقدمہ این آئی اے کے سپرد کر دیا تھا۔
این آئی اے مقدمہ کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ پاکستان کی جانب سے سرحد پار سے ہندوستانی سرزمین پر دہشت گردی کی مبینہ سرپرستی اور پوری سازش کو بے نقاب کیا جا سکے۔ (ایجنسیاں)










