نئی دہلی، یکم جولائی (یو این آئی) دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے بدھ کے روز دہلی سکریٹریٹ میں ‘ون نیشن، ون الیکشن’ سے جڑے دو ترمیمی بلوں پر مطالعہ کے لیے آئے پارلیمنٹ کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے وفد کا استقبال کیا۔
محترمہ گپتا نے کہا کہ ہندوستان میں ایک ساتھ انتخابات ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ اس سے بہتر نظام کچھ نہیں ہو سکتا۔ پورے ہندوستان میں اگر لوک سبھا اور تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ ہوں تو ملک کی توانائی، وقت اور وسائل کی بڑی بچت ہوگی۔ بار بار ہونے والے انتخابات کی وجہ سے انتظامی نظام طویل عرصے تک انتخابی عمل میں مصروف رہتا ہے۔ ضابطہ اخلاق نافذ ہونے سے ترقیاتی کام متاثر ہوتے ہیں اور سرکاری مشینری کا بڑا حصہ انتخابی فرائض میں لگ جاتا ہے۔ خاص طور پر دہلی جیسی چھوٹی ریاست میں انتخابات کے دوران بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین کی ڈیوٹی لگنے سے تعلیمی نظام سمیت کئی عوامی خدمات متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لگاتار انتخابات ہونے سے حکومتوں کی مدت کار بھی متاثر ہوتی ہے۔ ملک کے مفاد میں ایک ایسا نظام وضع کیا جانا چاہیے جس سے حکومتیں بغیر کسی غیر ضروری رکاوٹ کے پورے دل و جان سے عوام کی ترقی کے لیے کام کر سکیں۔
دہلی کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ قومی دارالحکومت کا انتخابی شیڈول لوک سبھا انتخابات سے تقریباً ایک سال کے فرق پر ہوتا ہے۔ اگر قومی سطح پر تال میل قائم کرنے کے لیے دہلی کی مدت کار میں ضروری ایڈجسٹمنٹ کرنی پڑے تو دہلی حکومت مثبت سوچ کے ساتھ اس پر غور کرنے کو تیار ہے۔ اگر ملک کے مفاد میں ضرورت ہو تو دہلی اس سمت میں تعاون کرنے والی سرکردہ ریاستوں میں شامل ہو سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہلی ملک کا ایسا میٹروپولیٹن شہر ہے جہاں تقریباً تمام ریاستوں کے شہری رہائش پذیر ہیں۔ اس لیے انتخابی رویے اور پولنگ سے جڑے کئی منفرد پہلوؤں کا مطالعہ بھی یہاں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی طرف سے مانگے گئے تمام موضوعات پر دہلی حکومت باضابطہ طور پر تفصیلی مطالعہ کر کے اپنی تحریری تجاویز بھی پیش کرے گی تاکہ کمیٹی اپنی حتمی سفارشات تیار کرتے وقت دہلی کی آئینی اور انتظامی صورتحال کا مناسب خیال رکھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت ایسے ہر اصلاح کی حمایت کرتی ہے جس سے گڈ گورننس، انتظامی کارکردگی اور جمہوری نظام مضبوط ہو، ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ کسی بھی تبدیلی کے دوران آئین کی بنیادی روح اور جمہوری اصول پوری طرح محفوظ رہیں۔ یہ کمیٹی آئین (129 واں ترمیمی) بل، 2024 اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین (ترمیمی) بل، 2024 کی مختلف دفعات پر ریاستوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز حاصل کرنے کے مقصد سے مطالعہ کے لیے دہلی آئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کمیٹی کے تمام ارکان کا دہلی سکریٹریٹ آمد پر استقبال کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام کو زیادہ موثر، بہتر حکمرانی اور انتظامی طور پر کارآمد بنانے کے مقصد سے مرکزی حکومت کی جانب سے مختلف ریاستوں سے تجاویز حاصل کرنے کی یہ پہل انتہائی قابل تعریف ہے۔ دہلی حکومت اس اہم موضوع پر پوری سنجیدگی اور مثبت نقطہ نظر کے ساتھ کمیٹی کو اپنی تفصیلی تجاویز بھی فراہم کرے گی۔
کمیٹی کے چیئرمین اور ایم پی مسٹر پی پی چودھری کی قیادت میں آئے وفد میں مرکزی وزیر مسٹر پرشوتم روپالا، ایم پی مسٹر وشنو دیال رام، مسٹر بھرتری ہری مہتاب، ڈاکٹر سمبت پاترا، مسٹر وشنودت شرما، مسٹر سکھدیو بھگت، مسٹر جی ایم ہریش بالیوگی، مسٹر کے رادھا کرشنن، مسٹر گھنشیام تیواری، محترمہ کویتا پاٹیدار اور مسٹر سنجے جائسوال موجود تھے۔









