ویب ڈیسک
سرینگر؍۶جون
پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتے کے روز کہا کہ انہوں نے مرکزی وزیر صحت جگت پرکاش نڈا سے بات چیت کی ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ ایمز اونتی پورہ کی جاری تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے تاکہ یہ اہم طبی ادارہ مزید کسی تاخیر کے بغیر جلد از جلد فعال ہو سکے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ مرکزی وزیر صحت نے انہیں یقین دلایا ہے کہ منصوبہ مقررہ مدت کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔
پی ڈی پی صدر نے لکھا’’میں نے مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا جی سے بات کی اور ان سے درخواست کی کہ ایمز اونتی پورہ میں جاری کام کو تیز کیا جائے تاکہ اس میں مزید تاخیر نہ ہو۔ انہوں نے مہربانی کرتے ہوئے مجھے یقین دلایا کہ یہ منصوبہ بروقت مکمل کر لیا جائے گا۔‘‘
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسے وقت میں جب جموں و کشمیر کا شعبۂ صحت مختلف چیلنجز اور طبی ڈھانچے پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، اس منصوبے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔انہوں نے منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کارکنان اور افسران مقررہ مدت میں کام مکمل کرنے کے لیے مسلسل محنت کر رہے ہیں۔
محبوبہ نے کہا’’بلاشبہ یہاں تعینات ٹیم دن رات محنت کر رہی ہے، لیکن جموں و کشمیر میں صحت کے شعبے کی ابتر ہوتی صورتحال کے پیش نظر یہ ناگزیر ہے کہ ایمس اونتی پورہ جلد از جلد فعال ہو جائے۔‘‘انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ مریضوں کو درپیش مشکلات میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ خطے میں معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو بھی مضبوط بنائے گا۔
ایمز اونتی پورہ، جموں و کشمیر کے اہم صحت منصوبوں میں شمار ہوتا ہے، اور اس کے فعال ہونے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ یہ اعلیٰ درجے کی طبی سہولیات، طبی تعلیم اور خصوصی علاج کی خدمات میں نمایاں اضافہ کرے گا۔
جمعہ کے روز محبوبہ مفتی نے ضلع پلوامہ میں زیر تعمیر ایمس اونتی پورہ کا دورہ کیا تھا تاکہ منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لے سکیں، تاہم حکمران نیشنل کانفرنس نے اس ’’جائزہ‘‘ لینے کے ان کے اختیار پر سوال اٹھایا۔
نیشنل کانفرنس کی رہنما اور وزیر صحت سکینہ ایتو نے ایکس پر لکھا’’کچھ لوگ سیاسی یادداشت کھو بیٹھے ہیں۔ وہ اب بھی ایسے برتاؤ کرتے ہیں جیسے اقتدار میں ہوں، حالانکہ وہ۲۰۱۸ میں اقتدار سے باہر ہو گئے تھے اور اس کے بعد عوام نے انہیں بارہا مسترد کیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ موجودہ منتخب حکومت عمر عبداللہ کی قیادت میں کام کر رہی ہے، ’’لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ سابق حکمران آخر کس حیثیت میں ایمز اونتی پورہ منصوبے کے جائزے کر رہے ہیں۔‘‘
سکینہ ایتو نے مزید سوال اٹھایا’’اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ آخر کون انہیں ایسے اقدامات کرنے کا اشارہ دے رہا ہے؟ دہلی میں کون سا طاقت کا مرکز ان سرگرمیوں کی ہدایت کر رہا ہے؟‘‘
وزیر صحت نے کہا کہ یہ ایک ’’ستم ظریفی‘‘ ہے کہ وہ لوگ، جن کے دور میں ایمز منصوبہ انتہائی سست رفتاری کا شکار رہا، آج اس کی پیش رفت کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔










