بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-06-03
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

جموں کشمیر کو بھی لداخ کے تجربے سے سبق لینا چاہیے

            جموں و کشمیر اور لداخ کی سیاسی تاریخ، جغرافیائی اہمیت اور عوامی خواہشات میں کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ دونوں خطے سابق ریاست جموں و کشمیر کا حصہ رہے ہیں اور دونوں ہی۲۰۱۹ کے بعد نئے سیاسی اور انتظامی حالات سے گزر رہے ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں لداخ کی سیاسی اور سماجی قیادت نے جس تدبر، سنجیدگی اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے لیے ایک اہم مثال بن کر سامنے آیا ہے۔

متعلقہ

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

            لداخ کی دو بڑی تنظیموں، لیہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس، نے اپنے نظریاتی اور علاقائی اختلافات کو پس پشت ڈال کر مرکزی حکومت کے ساتھ مسلسل مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں اگرچہ ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان کئی اہم امور پر اصولی اتفاق رائے سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مرکز نے لداخ کو آرٹیکل۳۷۱کی طرز کے آئینی تحفظات، ایک منتخب قانون ساز ادارہ اور انتظامی و مالی اختیارات دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ پیش رفت اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے اور عوامی مطالبات کو آئینی و جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

            یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر لداخ کی سیاسی و سماجی قیادت اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر دہلی کے ساتھ بامعنی بات چیت کر سکتی ہے تو جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتیں ایسا کیوں نہیں کر سکتیں؟ جموں و کشمیر میں مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان نظریاتی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں۔

             نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، کانگریس، پیپلز کانفرنس، سی پی آئی (ایم)، عوامی اتحاد پارٹی اور دیگر جماعتوں کے سیاسی مؤقف مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن کچھ ایسے معاملات ہیں جو پورے خطے اور تمام باشندوں سے متعلق ہیں۔ ریاستی درجے کی بحالی، جمہوری اداروں کا استحکام، روزگار کے مواقع، اقتصادی ترقی، نوجوانوں کے مسائل اور عوامی نمائندگی جیسے موضوعات پر ایک مشترکہ مؤقف اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

            یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت متعدد مواقع پر یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بھی مختلف مواقع پر سیاسی عمل کی بحالی اور عوامی نمائندوں کے ساتھ رابطے کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔ ایسے میں اگر منتخب سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی تنظیمیں مشترکہ طور پر آگے بڑھیں تو یقیناً ایک مثبت اور نتیجہ خیز ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔

            پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جانب سے حالیہ خطوط اسی تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی رہنماؤں، مذہبی اور سماجی شخصیات سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے بات چیت کا مطالبہ کریں۔ محبوبہ مفتی نے اپنی اپیل میں لداخ کے حالیہ تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے درست نشاندہی کی ہے کہ بامعنی نتائج صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

            اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جموں و کشمیر گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ اگرچہ اسمبلی انتخابات کا انعقاد ایک مثبت پیش رفت تھی، لیکن ریاستی درجے کی بحالی کا معاملہ ابھی تک زیر التوا ہے۔ یہ مسئلہ صرف کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پورے خطے کے عوام کا مشترکہ مطالبہ ہے۔ اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی سیاسی رقابتوں سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔

            جمہوری معاشروں میں مذاکرات کمزوری نہیں بلکہ سیاسی بلوغت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں پیچیدہ سیاسی اور آئینی تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے ہی تلاش کیا گیا ہے۔ لداخ کے نمائندوں نے بھی یہی راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے نہ صرف مرکز کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا بلکہ اپنے مطالبات کو آئینی اور قانونی بنیادوں پر پیش کیا۔ نتیجتاً آج ان کے مطالبات سنجیدگی سے زیر غور ہیں اور کئی اہم معاملات پر پیش رفت بھی سامنے آ رہی ہے۔

            جموں و کشمیر میں بھی اسی طرز فکر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں صرف ایک دوسرے پر تنقید اور الزام تراشی میں مصروف رہیں گی تو عوامی مسائل کے حل کی رفتار متاثر ہوگی۔ اس کے برعکس اگر تمام جماعتیں چند بنیادی نکات پر اتفاق رائے پیدا کریں اور مرکز کے ساتھ ایک بامقصد مذاکراتی عمل شروع کریں تو اس سے نہ صرف ریاستی درجے کی بحالی کے امکانات مضبوط ہوں گے بلکہ دیگر سیاسی، اقتصادی اور انتظامی مسائل کے حل کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

            سول سوسائٹی کا کردار بھی اس ضمن میں انتہائی اہم ہے۔ تعلیمی ادارے، تجارتی تنظیمیں، نوجوانوں کے گروپ، دانشور، وکلا اور سماجی کارکن ایسے پلیٹ فارم تشکیل دے سکتے ہیں جو مختلف طبقات کی آواز کو ایک مشترکہ مطالبے کی شکل میں سامنے لائیں۔ لداخ میں بھی سول سوسائٹی نے سیاسی قیادت کے ساتھ مل کر ایک متحد موقف اختیار کیا جس نے مذاکراتی عمل کو تقویت بخشی۔

            آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جموں و کشمیر کے تمام فریق جذباتی نعروں اور سیاسی تعصبات سے بالاتر ہو کر زمینی حقائق کو مدنظر رکھیں۔ عوام کی فلاح، سیاسی استحکام اور جمہوری حقوق کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور مسلسل مکالمہ جاری رکھا جائے۔ ریاستی درجے کی بحالی ایک جائز اور جمہوری مطالبہ ہے، لیکن اس مطالبے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے اتحاد، تدبر اور مذاکرات کی ضرورت ہے۔

            لداخ کی حالیہ پیش رفت نے ثابت کر دیا ہے کہ اختلافات کے باوجود مشترکہ مفادات کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ممکن ہے۔ جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو بھی اس تجربے سے سبق سیکھنا چاہیے۔ اگر وہ متحد ہو کر مرکز کے ساتھ تعمیری اور نتیجہ خیز بات چیت کا آغاز کریں تو نہ صرف ریاستی درجے کی بحالی کے امکانات روشن ہوں گے بلکہ خطے میں سیاسی استحکام، عوامی اعتماد اور ترقی کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔ یہی وقت کا تقاضا ہے اور یہی عوامی مفاد کا راستہ بھی۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

جموںکشمیر پر پاک ای یو کا مشترکہ بیان مسترد

Next Post

 گرما میں بھی….!

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

2026-07-22
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

2026-07-21
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کچرے کے ڈھیر پر کھڑی سیاحت

2026-07-19
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

2026-07-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
Next Post
سازش۔۔۔۔۔۔۔؟

 گرما میں بھی....!

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.