بیجنگ/ماسکو، 18 مئی (یواین آئی): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کامیاب دورے کے فوراً بعد، چین اب روسی صدر ولادیمیر پوتن کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ روسی صدر، چینی صدر شی جن پنگ کی خصوصی دعوت پر 19 اور 20 مئی کو چین کا دو روزہ سرکاری دورہ کر رہے ہیں، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری اور اہم عالمی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔
اس دو روزہ دورے کے دوران صدر پوتن اور صدر شی جن پنگ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ موجودہ بین الاقوامی سیاسی صورتحال پر بات چیت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ روسی صدر چینی وزیر اعظم لی کیانگ سے بھی ملاقات کریں گے۔ واضح رہے کہ فروری 2022 میں دونوں رہنماؤں نے "بغیر کسی حد” کے اسٹریٹجک شراکت داری کے تاریخی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
روسی صدر کے سفر سے قبل، اتوار کے روز صدر شی اور صدر پوتن نے ایک دوسرے کو "مبارکباد کے خطوط” بھیجے تھے۔ یہ پیغامات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چار روزہ دورۂ چین کے ختم ہونے کے محض چند دن بعد سامنے آئے ہیں۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق، صدر شی جن پنگ نے اپنے بیان میں کہا کہ چین اور روس کے درمیان تعاون "مسلسل گہرا اور مضبوط ہو رہا ہے”۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ سال دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری کی 30 ویں سالگرہ کا ہے۔ چینی سرکاری اخبار ‘گلوبل ٹائمز’ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ امریکی اور روسی صدور کے ان بیک ٹو بیک دوروں سے ثابت ہوتا ہے کہ بیجنگ "عالمی سفارت کاری کے مرکز” کے طور پر تیزی سے ابھر رہا ہے۔
گلوبل ٹائمز کے مطابق، "ان مسلسل دوروں نے عالمی سطح پر زبردست توجہ حاصل کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرد جنگ کے بعد کے دور میں کسی بھی ملک کے لیے ایک ہی ہفتے کے اندر امریکہ اور روس جیسے دو بڑے رہنماؤں کی میزبانی کرنا انتہائی نایاب اور غیر معمولی بات ہے۔”
دوسری طرف، روس کے ساتھ چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات نے مغربی ممالک (امریکہ اور یورپ) میں تشویش پیدا کر دی ہے، خاص طور پر 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے۔ اس تنازع کے بعد روس کو چین کی جانب سے ملنے والی اقتصادی اور سفارتی حمایت نے ماسکو کو جنگی دباؤ برقرار رکھنے میں بڑی مدد دی ہے۔ دونوں ممالک کے رہنما اب تک 40 سے زائد مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔
سال 2022 کے بعد سے چین اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، اور اب روس کی مجموعی برآمدات کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ چین کو جاتا ہے۔ ‘سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر’ کے تخمینے کے مطابق، چین کی جانب سے روسی خام تیل کی بڑے پیمانے پر خریداری سے ماسکو کو اربوں ڈالر کا ریونیو حاصل ہوا ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد سے چین اب تک 367 ارب ڈالر سے زائد کا روسی ایندھن خرید چکا ہے۔
اس سپلائی نے چین کے لیے توانائی کے تحفظ کو بھی مضبوط کیا ہے، جو کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد چین کے لیے خاص طور پر اہم ہو چکا ہے۔ اب روس، چین پر "پاور آف سائبیریا 2” گیس پائپ لائن منصوبے کو جلد آگے بڑھانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے، جس کے مکمل ہونے سے دونوں ممالک کے موجودہ گیس نیٹ ورک میں سالانہ 50 ارب کیوبک میٹر گیس کی فراہمی کا اضافہ ہو جائے گا۔








