واشنگٹن، 17 اپریل (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے پر رضامند ہوگیا ہے۔
صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران اپنے تباہ شدہ افزودہ یورینیم کو بھی امریکہ کے حوالے کرنے پر تیار ہو گیا ہے جو دھول بن چکا ہے۔ امریکی صدر نےکہاکہ ایران سے امریکا کی بہت اچھی بات چیت چل رہی ہے، ایران کے ساتھ امریکاکی ڈیل بہت قریب ہے، مذاکرات کا نیا دوراسی ہفتے ممکن ہے، ایران پہلے جن باتوں پر تیار نہیں تھا، اب ان پر تیار ہے، ایران سے معاہدہ ہو گیا تو پاکستان جاؤں گا۔
صدر ٹرمپ نے کہاکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بم باری سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ لبنان اور اسرائیل کی جنگ بندی پر کہا کہ انہوں نے لبنانی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کو وائٹ ہاوس بلایا ہے، حزب اللہ سے بات چیت لبنانی حکومت کرےگی۔ امریکی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایک بار پھر تعریف کی اور کہا یہ دونوں زبردست آدمی ہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران سے جنگ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن کرنی پڑی، ایران مشکل اور ذہین ملک ہے، ان کے لوگ اچھے فائٹر ہیں۔
ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں تقریب سے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں جنگ اچھے طریقے سے ختم ہونے جارہی ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہمارے ایک بحری جہاز پر 111 راکٹ فائر کئے گئے، ہماری فوج نے تمام 111راکٹوں کو تباہ کرکے حملہ ناکام بنایا۔
ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ معیشت میں رکاوٹ ایران کی وجہ سے آئی، بولے ویتنام اور افغانستان میں طویل عرصے تک جنگیں جاری رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سے جنگ دو ماہ میں ختم ہونے جارہی ہے ساتھ ہی دعویٰ بھی کیا کہ ایران میں بہت جلد ہمیں فتح ملنے جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے اور اسے مزید بہتر کر رہے ہیں، بہترین فوج کی وجہ سے ایران جنگ میں جو کچھ کرنا چاہا وہ کیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران سے جوہری پروگرام کی وجہ سے جنگ کرنی پڑی تاہم ایران میں جنگ بہت جلد ختم ہونے جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج کے پاس جدید ٹیکنالوجی ہے اور مزید بہتر کریں گے ۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کرے گا۔
ترکیہ کے شہر انطالیہ میں 17 سے 19 اپریل تک جاری رہنے والے انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نائب ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران پورے خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے کا خواہاں ہے، کسی بھی جنگ بندی میں تمام محاذ شامل ہونے چاہئیں۔
سعید خطیب زادہ نے کہا کہ ہم کسی عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کریں گے، یہ تنازع اب ہمیشہ کے لیے ختم ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز تاریخی طور پر کھلی رہی ہے، آبنائے ہرمز ایران کے علاقائی سمندری حدود میں واقع ہے، مگر طویل عرصے سے قابلِ رسائی رہی ہے۔ سعید خطیب زادہ نے کہا کہ امریکی، اسرائیلی اقدامات نے عالمی تجارت اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔








