واشنگٹن، 13 اپریل (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اچھی طرح سے برقرار ہے۔
میری لینڈ میں جوائنٹ بیس اینڈریوز پر میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران اس وقت بری صورت حال میں ہے، وہ مذاکراتی ٹیبل پر واپس آتا ہے یا نہیں مجھے اس کی پروا نہیں، اسلام آباد میں اس کے ساتھ 21 گھنٹے تک مذاکرات ہوئے اور جنگ بندی اچھی طرح سے برقرار ہے۔
دوسری طرف امریکی نشریاتی ادارے سے ٹیلی فونک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا ایران مذاکرات کی میز سے اٹھا نہیں ہے وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے گا اور ہمیں وہ سب کچھ دے گا جو ہم چاہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ امریکی مذاکرات کاروں نے تقریباً ہر نکتے پر اتفاق کر لیا تھا لیکن ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے دست بردار ہونے سے انکار کر دیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر چین نے ایران کی فوجی مدد کی تو اس پر 50 فی صد ٹیرف عائد کر دیں گے۔ میری لینڈ میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا آبنائے ہرمز سے متعلق بہت اچھی چیزیں ہونے جا رہی ہیں، ایران نے وعدہ کیا تھا آبنائے ہرمز کھولے گا لیکن اس نے جھوٹ بولا، ہم صبح دس بجے سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دیں گے اور ایران کسی کو تیل نہیں بیچ سکے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہمارے پاس روس اور سعودی عرب سے بھی زیادہ تیل ہے، ہم نیٹو کو ٹریلین ڈالرز دیتے ہیں لیکن ہماری مدد کے لیے نہیں آیا، میں نیٹو سے مایوس ہوں، اس نے ہماری مدد نہیں کی، اب اگر نیٹو مدد کرنا چاہتا بھی ہے تو اس وقت کوئی خطرہ نہیں بچا۔
ادھر برطانیہ ایران کے خلاف امریکی فوجی ناکہ بندی نافذ کرنے کے عمل میں شامل نہیں ہوگا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ ایران کے خلاف امریکی فوجی ناکہ بندی نافذ کرنے کے عمل میں شامل نہیں ہوگا۔ برطانوی بحری جہاز اور فوجی ایرانی بندرگاہوں کو بند کرنے کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے۔
حکومتِ برطانیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم جہاز رانی کی آزادی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی حمایت جاری رکھیں گے، کیونکہ عالمی معیشت اور مقامی سطح پر زندگی گزارنے کی لاگت کو قابو میں رکھنے کے لیے اس کا کھلنا انتہائی ضروری ہے۔ ترجمان برطانوی حکومت کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے لیے کوئی ٹول عائد نہیں ہونا چاہیے۔
برطانیہ فرانس اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ آزاد جہاز رانی کے تحفظ کے لیے وسیع اتحاد بنانے پر کام کر رہا ہے۔ امریکہ نے اس ناکہ بندی کا اعلان ایران کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد کیا۔ دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔
واضح رہے کہ عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز کے بعد سے ایران نے اس آبی گزرگاہ کو مؤثر طریقے سے بند کر رکھا ہے۔
وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے تنازع میں برطانیہ کی براہ راست فوجی شمولیت کو بارہا مسترد کیا ہے۔ ایران کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر برطانیہ نے مسلسل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ناکہ بندی کے اس اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔








