ماسکو، 8 اپریل (یواین آئی) روس اور ترکیہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
کریملن کے مطابق جنگ بندی سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی آئے گی اور امن مذاکرات کے لیے راہ ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ روس نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست رابطے بھی قائم ہوں گے۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے امریکہ کو یوکرین کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے مزید وقت اور گنجائش بھی مل سکتی ہے۔
دوسری جانب ترکیے کی وزارت خارجہ نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدے کی مکمل پاسداری کریں۔
ترک وزارت خارجہ کے مطابق جنگ بندی پر مؤثر عملدرآمد نہایت ضروری ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن یقینی بنایا جا سکے، جبکہ اس نے اسلام آباد میں جاری سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
ادھر سعودی عرب نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رہنا چاہیے اور امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی ایک جامع اور دیرپا امن کی بنیاد بنے گی۔








