سڈنی، 2 اپریل (یو این آئی) آسٹریلیا کی نوجوان بّلے باز جارجیا وول نے بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھتے ہی وہ کرشمہ کر دکھایا ہے جو گزشتہ دو دہائیوں میں کسی کھلاڑی کے بس میں نہ تھا۔ محض 22 سال کی عمر میں وول نے آئی سی سی کی تازہ ترین ٹی 20 رینکنگ میں اپنی ساتھی کھلاڑی بیتھ مونی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی نمبر ون بّلے باز کا تاج اپنے سر سجا لیا ہے۔ بین الاقوامی ڈیبیو کے صرف 15 ماہ بعد اور اپنے کیریئر کے محض 12 ویں میچ میں اس مقام تک پہنچنا کسی بھی کھلاڑی کے لیے ایک ریکارڈ ساز کامیابی ہے۔
جارجیا وول کی اس غیر معمولی کامیابی کی بنیاد گزشتہ ہفتے ویسٹ انڈیز کے خلاف ان کی شاندار سنچری بنی۔ پاور ہٹنگ کے لیے مشہور اس دائیں ہاتھ کی بّلے باز کی اوسط اس فارمیٹ میں 39.5 ہے جبکہ ان کا اسٹرائیک ریٹ 156.43 رہا ہے، جو ان کی جارحانہ بیٹنگ کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین انہیں الیسا ہیلی کے طویل مدتی متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی نمبر ون بننے والی کھلاڑیوں میں وول، انگلینڈ کی عظیم کھلاڑی شارلٹ ایڈورڈز کے بعد سب سے کم وقت میں اس مقام پر پہنچنے والی کھلاڑی بن گئی ہیں۔
اس تاریخی کامیابی کے باوجود جارجیا وول کے قدم زمین پر ہیں۔ اے اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انتہائی انکساری کے ساتھ کہا کہ وہ خود کو ابھی دنیا کی بہترین بّلے باز تسلیم نہیں کرتیں اور یہ صرف ان کے نام کے ساتھ جڑے ہوئے کچھ اعداد و شمار ہیں۔ وول کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح آسٹریلیا کے لیے رنز بنانا اور ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کرنا ہے، کیونکہ مخالف ٹیمیں ہمیشہ آپ کی کمزوریوں پر نظر رکھتی ہیں، اس لیے وہ اپنی تکنیک میں مزید بہتری لانے کی کوشش کریں گی۔
جارجیا وول کی یہ کامیابی جون میں انگلینڈ میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلوی ٹیم کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ گزشتہ ٹی 20 اور ون ڈے ورلڈ کپ کے سیمی فائنلز میں شکست کے بعد، آسٹریلیا اب دوبارہ عالمی اعزازات حاصل کرنے کی کوشش میں ہے جس میں وول کا کردار کلیدی ہوگا۔ ۔








