’معیشت اور عوام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں‘ ہندوستان بحران کے حل کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری کا حامی‘
تجارتی بحری جہازوں پر حملے اور آبنائے ہرمز میں خلل ناقابلِ قبول ہے‘ خطے میں موجود ہر ہندوستانی کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے:مودی
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲۳مارچ
وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز لوک سبھا میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان مغربی ایشیا کے بحران کو حل کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی وکالت کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تجارتی بحری جہازوں پر حملے اور آبنائے ہرمز میں خلل ناقابلِ قبول ہے، اور حکومت تیل اور گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف ممالک کے سپلائروں سے مسلسل رابطے میں ہے۔
لوک سبھا میں اپنے بیان میں مودی نے یہ بھی کہا کہ جنگ زدہ خطے میں موجود ہر ہندوستانی کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مغربی ایشیائی ممالک کے سربراہانِ مملکت سے بات کی ہے اور سب نے ہندوستانیوں کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ایندھن کی قلت کے خدشات کو دور کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مختلف ممالک کے سپلائروں سے مسلسل رابطے میں ہے کہ تیل اور گیس کی فراہمی جہاں سے بھی ممکن ہو جاری رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے تمام بجلی گھروں میں کوئلے کا کافی ذخیرہ موجود ہے اور ہندوستان غذائی تحفظ کے لحاظ سے بھی مکمل تیار ہے۔
وزیر اعظم نے کہا’’ہندوستان نے ہمیشہ انسانیت کے مفاد میں امن کی آواز بلند کی ہے۔ مذاکرات اور سفارت کاری ہی اس مسئلے کا حل ہیں۔ ہماری کوششیں کشیدگی کو کم کرنے اور اس تنازعے کو ختم کرنے پر مرکوز ہیں‘‘۔
مودی نے کہا کہ یہ جنگ انسانیت کے مفاد میں نہیں ہے، اس لیے ہندوستان کی کوشش ہے کہ تمام فریقین کو جلد از جلد پرامن حل کی طرف آنے کی ترغیب دی جائے۔ حکمران اتحاد کے ارکان نے میزیں تھپتھپا کر اس بیان کی تائید کی۔
وزیر اعظم مودی نے بتایا کہ تنازعے کے ابتدائی لمحے سے ’’جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اور ایران نے اپنے خلیجی ہمسایوں اور اسرائیل کو نشانہ بنا کر جوابی کارروائی کی ہندوستان نے اس تنازعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان کاکہنا تھا’’میں نے مغربی ایشیا کے رہنماؤں سے بات کی ہے اور ان سے کشیدگی ختم کرنے کی درخواست کی ہے۔ ہندوستان نے شہری، توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی مخالفت کی ہے۔ تجارتی بحری جہازوں پر حملے اور آبنائے ہرمز جیسی آبی گزرگاہوں میں خلل ناقابلِ قبول ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ سفارت کاری کے ذریعے ہندوستان اس صورتحال میں ہندوستانی بحری جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
مودی نے اس جاری تنازعے کو’تشویشناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بحران سے پیدا ہونے والے چیلنجوں کے معاشی، قومی سلامتی اور انسانی پہلو ہیں۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ ہندوستان کے پاس۵۳ لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر موجود ہیں اور ملک۶۵ لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ اضافی ذخیرہ کرنے کے انتظامات پر بھی کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملکی تیل کمپنیوں کے اپنے ذخائر بھی موجود ہیں۔ان کاکہنا تھا’’گزشتہ۱۱ برسوں میں ہماری ریفائننگ صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور حکومت مختلف ممالک کے سپلائروں سے مسلسل رابطے میں ہے۔ کوشش یہ ہے کہ جہاں سے بھی ممکن ہو تیل اور گیس کی فراہمی جاری رہے‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مغربی ایشیا ہندوستان کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی خلیجی ممالک میں رہتے اور کام کرتے ہیں۔ ان سمندروں میں چلنے والے تجارتی بحری جہازوں میں ہندوستانی عملے کے ارکان کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔انہوں نے کہا ’’ان متعدد وجوہات کی بنا پر ہندوستان کی تشویش فطری طور پر زیادہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس بحران پر ہندوستان کی پارلیمنٹ کی متفقہ اور متحدہ آواز دنیا تک پہنچے‘‘۔
مودی نے کہا کہ جہاں جنگ ہو رہی ہے وہ خطہ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ہندوستان کی تجارت کا ایک اہم راستہ بھی ہے، اور خام تیل، گیس اور کھاد جیسی ضروری اشیاء کی بڑی مقدار آبنائے ہرمز کے راستے ہندوستان آتی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت انتہائی مشکل ہو گئی ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت کی کوشش رہی ہے کہ پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی فراہمی بہت زیادہ متاثر نہ ہو۔’’ہماری کوشش ہے کہ ملک کے عام خاندانوں کو کم سے کم تکلیف ہو۔ یہی ہماری توجہ کا مرکز رہا ہے‘‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ انہی کوششوں کی بدولت آبنائے ہرمز میں پھنسے ملک کے بہت سے بحری جہاز ہندوستان پہنچ گئے ہیں۔
وزیر اعظم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تنازعے کے دوران کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور کچھ لوگ زخمی ہوئے ‘ان کے خاندانوں کو ضروری مدد فراہم کی جا رہی ہے اور زخمیوں کے علاج کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
زراعت پر جنگ کے اثرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اچھی بات یہ ہے کہ ملک کے کسانوں نے غذائی اجناس کے ذخائر بھر دیے ہیں، اس لیے ہندوستان غذائی تحفظ کے لحاظ سے مکمل تیار ہے۔
ان کاکہنا تھا’’ہم اس بات کو یقینی بنانے کی بھی کوشش کر رہے ہیں کہ خریف کی بوائی بروقت ہو۔ اس کے لیے حکومت نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کھادوں کے مناسب انتظامات کیے ہیں۔ ماضی میں بھی ہماری حکومت نے کسی عالمی بحران کو اپنے کسانوں پر اثرانداز نہیں ہونے دیا‘‘۔
مودی نے کہا کہ چونکہ ہندوستان میں گرمیوں کا موسم شروع ہو گیا ہے اس لیے بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، لیکن ملک کے تمام بجلی گھروں میں کوئلے کا کافی ذخیرہ دستیاب ہے۔’’ہندوستان نے مسلسل دوسرے سال ایک ارب ٹن سے زیادہ کوئلہ پیدا کر کے ریکارڈ قائم کیا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں ملک نے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بھی اہم اقدامات کیے ہیں۔‘‘










