پی ڈی پی ایم ایل اے کی باز آباد کاری کیلئے قانونی فریم ورک کی تجویز
ایجنسیز
سرینگر؍۱۹مارچ
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رکن اسمبلی آغا سید منتظر مہدی نے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ایک نجی رکن بل پیش کیا ہے، جس میں کشمیری پنڈتوں اور دیگر بے گھرکمیونٹی کی دوبارہ آبادکاری کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
’کشمیری پنڈت اور مہاجرین کی دوبارہ آبادکاری بل۲۰۲۶‘ کے عنوان سے پیش کیے گئے اس بل میں ایک بااختیار جموں و کشمیر ری-انٹیگریشن کمیشن کے قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے، جو۱۹۸۹۔۹۰ کے دوران دہشت گردی کے سبب بے گھر ہونے والے افراد کی محفوظ، رضاکارانہ اور باوقار واپسی کو یقینی بنائے گا۔
جموں و کشمیر اسمبلی کا بجٹ اجلاس۲۷مارچ کو جموں میں دوبارہ شروع ہونے والا ہے۔
مسودے کے مطابق، یہ کمیشن ایک مستقل ادارہ ہوگا جو دوبارہ آبادکاری کی پالیسیوں کی نگرانی کرے گا، مفاہمت کو فروغ دے گا اور بے گھر برادریوں، خصوصاً کشمیری پنڈتوں کی طویل مدتی سماجی، ثقافتی اور معاشی شمولیت کو یقینی بنائے گا۔
بل میں’بازآبادکاری‘ کو ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو رضاکارانہ، محفوظ، باوقار اور پائیدار ہو، جس میں جسمانی واپسی کے ساتھ ساتھ سماجی قبولیت، ثقافتی بحالی، نفسیاتی شفا اور معاشی شمولیت شامل ہوں۔ اس میں یہ بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ کمیشن میں کشمیری پنڈتوں (بشمول بیرون ملک مقیم افراد)، کشمیری مسلم سول سوسائٹی، تنازعات کے ماہرین اور سرکاری نمائندوں کو شامل کیا جائے۔
اس مجوزہ ادارے کے اہم فرائض میں بین برادری مکالمے کو فروغ دینا، ذہنی صحت اور نفسیاتی بحالی کے پروگرام ترتیب دینا، اقلیتی ثقافتی ورثے کا تحفظ کرنا اور متاثرہ افراد کے تجربات کو دستاویزی شکل دینا شامل ہے، تاکہ کمیونٹی کی سطح پر مفاہمت کو تقویت دی جا سکے۔
بل میں موجودہ امدادی اور راحت پر مبنی نظام کو طویل مدتی دوبارہ آبادکاری کے نظام میں تبدیل کرنے کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کے تحت ریلیف اینڈ ری ہیبلیٹیشن ڈیپارٹمنٹ کو ری-انٹیگریشن کمیشن میں تبدیل کیا جائے گا اور اس کے تمام وسائل، عملہ اور اسکیمیں بغیر کسی تعطل کے نئے ادارے کو منتقل کر دی جائیں گی۔
مزید برآں، بل میں درمیانی اور طویل مدتی حکمت عملیوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، جن میں اعتماد سازی، ثقافتی بحالی، پائیدار روزگار اور سلامتی و مساوات کی ادارہ جاتی ضمانتیں شامل ہیں۔
بل کے اغراض و مقاصد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ۱۹۸۰کی دہائی کے اواخر اور۱۹۹۰ کی دہائی کے اوائل میں کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی نے نہ صرف جغرافیائی بے دخلی پیدا کی بلکہ صدیوں پرانے سماجی اور ثقافتی رشتوں کو بھی توڑ دیا، جس کے لیے ایک منظم اور مفاہمت پر مبنی ردعمل کی ضرورت ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ مختلف حکومتوں نے مالی امداد، راشن، ملازمتوں کے پیکجز، رہائش اور تعلیمی سہولیات فراہم کیں، لیکن یہ اقدامات زیادہ تر وقتی اور بکھرے ہوئے رہے اور انہوں نے اس مسئلے کے نفسیاتی، ثقافتی اور سماجی پہلوؤں کو پوری طرح حل نہیں کیا۔
بل کے مطابق، صرف امداد پر مبنی نظام نے وقت کے ساتھ انحصار، حاشیہ نشینی اور سماجی تقسیم کو بڑھایا ہے، جبکہ باوقار واپسی اور مشترکہ مستقبل کی راہ ہموار نہیں ہو سکی۔
مسودے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ایک باقاعدہ، شمولیتی اور مفاہمت پر مبنی ادارے کی عدم موجودگی نے ریاست کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے کہ وہ اس المیے کے گہرے اثرات کا مؤثر طور پر ازالہ کر سکے۔ لہٰذا، ایک نئے قانونی فریم ورک کی اشد ضرورت ہے جو آئینی اصولوں—وقار، مساوات، بھائی چارہ اور باعزت زندگی کے حق—پر مبنی ہو۔
بل کے مطابق، دوبارہ آبادکاری صرف واپسی کا نام نہیں بلکہ تعلق، تحفظ، ثقافتی تسلسل اور سماجی شمولیت کی بحالی کا عمل ہے، جو رضاکارانہ اور پائیدار ہونا چاہیے۔
مرکزی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق‘۶۲ ہزار سے زائد خاندان‘جن میں زیادہ تر کشمیری پنڈت شامل ہیں‘دہشت گردی کے آغاز پر وادی سے نقل مکانی کر گئے تھے۔ ان میں سے تقریباً۴۰ہزار خاندان جموں میں جبکہ قریب۲۰ہزار دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں آباد ہیں۔
جموں و کشمیر حکومت کے۲۰۱۰میں اسمبلی میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں میں۲۱۹کشمیری پنڈت ہلاک ہوئے۔










