’یہ دونوں کیلئے جیت ہے ‘ہم مرکز سے اسی چیز کی خواہش رکھتے تھے ‘
(ویب ڈیسک )
نئی دہلی؍۱۷مارچ
جیل سے رہائی کے بعد اپنے پہلے عوامی بیان میں، کارکن سونم وانگچک نے منگل کو قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت اپنی حراست کی منسوخی کو ایک’وِن وِن‘ پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ مرکز نے لداخ کے عوام کے ساتھ بامعنی مکالمے کے لیے اعتماد سازی کی غرض سے ہاتھ بڑھایا ہے۔
یہاں اپنی اہلیہ اور ایچ آئی اے ایل کی شریک بانی گیتانجلی جے انگمو کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وانگچک نے کہا کہ لداخ میں ہونے والے احتجاج کا مقصد صرف اور صرف ایک تعمیری مکالمے کے عمل کا آغاز رہا ہے۔
وانگچک نے حکومت کے اس اقدام کو ’’اعتماد قائم کرنے اور بامعنی، تعمیری مذاکرات کو ممکن بنانے کے لیے ہاتھ بڑھانا‘‘قرار دیا۔
انہوں نے کہا’’انہوں(مرکز) نے ایک تعمیری اور بامعنی مکالمے کی پیشکش کی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی ہم خواہش رکھتے تھے، اور اس کے لیے ہمیں بہت جدوجہد کرنی پڑی، دہلی تک پیدل آنا پڑا، انشن (بھوک ہڑتال) پر بیٹھنا پڑا۔ لداخ کی تمام تحریکیں مذاکراتی عمل کے آغاز کے لیے ہیں‘‘۔
وانگچک نے مزید کہا’’عام طور پر آپ دیکھتے ہیں کہ لوگ ہتھیار اٹھاتے ہیں اور حکومت مکالمے کی اپیل کرتی ہے۔ یہاں لوگ حکومت سے مکالمہ شروع کرنے کی اپیل کر رہے ہیں‘‘۔
اپنے اگلے قدم کے بارے میں پوچھے جانے پر وانگچک نے کہا کہ وہ لداخ جائیں گے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے اے ڈی) کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے، جو گزشتہ پانچ برس سے لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور اسے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کے مطالبے پر تحریک چلا رہے ہیں۔
اس سوال پر کہ آیا وہ دوبارہ احتجاج کریں گے، انہوں نے کہا’’میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ میں بھوک ہڑتال پر نہیں بیٹھنا چاہتا، مجھے اس پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اب جبکہ حکومت نے ہاتھ بڑھایا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ ایک اچھی مثال قائم ہوگی‘‘۔
۵۹سالہ وانگچک کو گزشتہ سال۲۶ستمبر کو سخت این ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، جب کہ اس سے دو روز قبل احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔انہیں ہفتہ کے روز جودھپور سینٹرل جیل سے اس وقت رہا کیا گیا جب مرکزی حکومت نے ان کی حراست کو فوری طور پر منسوخ کر دیا۔
ایل اے بی اور کے اے ڈی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے اہم مطالبات—ریاست کا درجہ اور چھٹے شیڈول میں شمولیت—پر مسلسل بات چیت میں مصروف رہے ہیں، یہ وہ مسائل ہیں جو۲۰۱۹میں خطے کو جموں و کشمیر سے الگ کر کے ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کے بعد سے زیرِ التوا ہیں۔
ان تنظیموں نے پیر کے روز ریلیاں اور بند کا اہتمام کیا تاکہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے وعدے کے مطابق مذاکرات کے اگلے دور کا مطالبہ کیا جا سکے۔
اعلیٰ سطحی کمیٹی کا آخری اجلاس، جس کی صدارت وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے کی‘۴فروری کو منعقد ہوا تھا، جہاں دونوں تنظیموں نے وانگچک اور دیگر۷۰ زیرِ حراست افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔










