مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری محاذ آرائی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی، جس میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت ہوئی، کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اس کے ردعمل میں ایران نے ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے اسرائیل اور خلیجی خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس کشیدہ ماحول میں خلیجی ممالک، عالمی معیشت اور بین الاقوامی سفارتی نظام سبھی ایک نازک موڑ پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ ایسے حساس وقت میں ہندوستان کی سفارتی سرگرمیوں نے عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ چند دنوں کے دوران خلیجی خطے کے کئی اہم رہنماؤں سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ عمان کے سلطان ہیثم بن طارق، کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد الحمد المبارک الصباح اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے رابطوں کے دوران انہوں نے خطے میں جاری حملوں پر تشویش ظاہر کی اور امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ مودی نے بحرین کے بادشاہ، سعودی عرب کے ولی عہد، اردن کے شاہ عبداللہ دوم، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو سے بھی گفتگو کی۔ ان مسلسل سفارتی رابطوں نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ ہندوستان مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسا ملک ہے جس کے تقریباً تمام فریقوں کے ساتھ بیک وقت دوستانہ اور متوازن تعلقات ہیں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ دنیا کے بہت کم ممالک ایسے ہیں جو بیک وقت اسرائیل، ایران اور خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتے ہوں۔ عام طور پر عالمی سیاست میں ایک فریق کے ساتھ قریبی تعلق دوسرے فریق کے ساتھ فاصلے کا سبب بنتا ہے، لیکن ہندوستان نے گزشتہ دہائی میں ایک متوازن اور محتاط سفارت کاری کے ذریعے اس مشکل توازن کو برقرار رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی آج اس خطے میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اس کامیابی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی سفارتی کوششوں کا کردار بھی خاصا نمایاں رہا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران مودی نے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو غیر معمولی حد تک وسعت دی ہے۔اسی طرح اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات بھی گزشتہ چند برسوں میں نمایاں طور پر مستحکم ہوئے ہیں۔یہی متوازن پالیسی آج ہندوستان کی سفارتی طاقت بن کر سامنے آئی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کے تناظر میں ہندوستان کے لیے ایک اور اہم پہلو وہاں مقیم لاکھوں ہندوستانی شہری ہیں۔ خلیجی ممالک اور مغربی ایشیا میں تقریباً نوے لاکھ ہندوستانی کام کرتے ہیں، جو نہ صرف اپنی روزی روٹی کے لیے وہاں مقیم ہیں بلکہ ہندوستانی معیشت کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران میں تقریباً دس ہزار اور اسرائیل میں چالیس ہزار سے زیادہ ہندوستانی رہائش پذیر ہیں۔ اس صورتحال میں خطے میں کسی بھی قسم کی جنگی توسیع ان لاکھوں لوگوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی لیے نئی دہلی کی سفارتی سرگرمیوں کا ایک اہم مقصد ان ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا بھی ہے۔ کابینہ کمیٹی برائے سلامتی نے بھی اس معاملے پر سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ وہ خطے میں موجود ہندوستانی شہریوں کی ہر ممکن مدد کریں۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ نے مختلف ممالک میں موجود سفارتی مشنز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہندوستانی شہریوں سے مسلسل رابطے میں رہیں اور ہیلپ لائنز کے ذریعے انہیں ضروری معلومات فراہم کریں۔
ایسے حالات میں ہندوستان کا کردار ایک ممکنہ ثالث کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ چونکہ نئی دہلی کے تقریباً تمام متعلقہ ممالک کے ساتھ اچھے اور قابل اعتماد تعلقات ہیں، اس لیے وہ سفارتی سطح پر بات چیت کے لیے ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہندوستان نہ تو اس تنازعے کا براہ راست فریق ہے اور نہ ہی اس کی پالیسی کسی ایک بلاک کے ساتھ مکمل وابستگی پر مبنی ہے۔ یہی غیر جانب دارانہ حیثیت اسے ثالثی کے لیے موزوں بناتی ہے۔
اگر نئی دہلی سفارتی سطح پر فعال کردار ادا کرتا ہے تو وہ کم از کم اس بات کی کوشش کر سکتا ہے کہ فریقین کے درمیان مکالمے کا راستہ کھلا رہے۔ جنگی ماحول میں بھی سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے سے بڑے تنازعات بھی بالآخر مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوئے ہیں۔
مزید برآں، ہندوستان کا مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ گہرا اقتصادی اور ثقافتی تعلق بھی اسے ایک ذمہ دار کردار ادا کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ اسی خطے سے پورا ہوتا ہے، جبکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع بھی اسی خطے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے ہندوستان کے مفاد میں یہی ہے کہ خطے میں امن و استحکام برقرار رہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں ایسے ممالک کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے جو تصادم کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کریں۔ ہندوستان، جو خود کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے، اس موقع پر ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی سمت ایک اشارہ سمجھی جا سکتی ہیں۔
اگر نئی دہلی اپنے متوازن تعلقات اور سفارتی سرمایہ کو بروئے کار لاتے ہوئے ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف خطے کے لیے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس طرح ہندوستان صرف ایک علاقائی طاقت ہی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی ثالث کے طور پر بھی اپنی پہچان مضبوط کر سکتا ہے۔
آج جب مشرقِ وسطیٰ بارود کے ڈھیر پر کھڑا نظر آ رہا ہے، ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔ اگر ہندوستان اس سمت میں موثر کردار ادا کرتا ہے تو یہ نہ صرف خطے میں خونریزی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ عالمی سفارت کاری میں بھی ایک مثبت مثال قائم کرے گا۔ یہی وہ لمحہ ہے جب نئی دہلی اپنی سفارتی بصیرت اور متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔





