’میں جموں و کشمیر کے لوگوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ صورتحال کو مزید خراب نہ ہونے دیں‘
ویب ڈیسک
جموں؍۳مارچ
وزیر اعلیٰ ‘عمر عبداللہ نے منگل کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کی مذمت کی اور جموں و کشمیر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، اپنے جذبات کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں اور اپنے غصے اور غم کا اظہار قانونی اور پُرامن طریقے سے کریں۔
وزیر اعلیٰ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا’’ایران کے عوام کو اپنی قیادت کا فیصلہ خود کرنا چاہیے، بغیر کسی بیرونی مداخلت کے۔ میں خامنہ ای اور ان کے خاندان کے قتل کی مذمت کرتا ہوں۔ کس قانون نے امریکہ اور اسرائیل کو یہ کرنے کا حق دیا؟ میں جموں و کشمیر کے لوگوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ صورتحال کو مزید خراب نہ ہونے دیں‘‘۔
خامنہ ای کی موت کے بعد وادی میں حالیہ تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ اگر پولیس یا مرکزی نیم فوجی دستوں کی جانب سے طاقت کا حد سے زیادہ استعمال یا اختیارات کا غلط استعمال ہوا ہو جس کے نتیجے میں لوگ زخمی ہوئے ہوں، تو عوام کے لیے شدید جذبات محسوس کرنا قابلِ فہم ہوگا۔
عمرعبداللہ نے کہا’’میں جموں و کشمیر کے لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ صورتحال کو بگڑنے نہ دیں۔ کچھ لوگ ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بعض مقامات سے واقعات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ میں یہاں پولیس یا مرکزی نیم فوجی دستوں کی جانب سے طاقت کے کسی بھی غلط استعمال کے نتیجے میں لوگوں کے زخمی ہونے یا، خدا نہ کرے، کسی کی جان جانے کا خواہاں نہیں ہوں۔ یہ نہایت افسوسناک ہوگا‘‘۔
یہ واضح کرتے ہوئے کہ وہ عوامی جذبات کو سمجھتے ہیں، انہوں نے مزید کہا’’میں ان کے جذبات کو سمجھ سکتا ہوں، کیونکہ کوئی غصہ کیسے محسوس نہ کرے؟ لیکن ایسے حالات میں سب سے اہم بات جذبات پر قابو پانا ہے‘‘۔انہوں نے کمیونٹی اور مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ لوگوں کی رہنمائی کریں تاکہ امن برقرار رکھا جا سکے۔ ’’آپ کو اپنے غصے، ناراضگی اور اپنے عقیدے کا اظہار کرنے کا پورا حق ہے، لیکن آپ کو قانون کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ براہِ کرم قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں‘‘۔
عمرعبداللہ نے زور دے کر کہا کہ اگر احتجاج کیے جائیں تو انہیں حساس انداز میں منعقد کیا جانا چاہیے تاکہ دیگر شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ “ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ دیگر شہریوں کی جانیں محفوظ رہیں۔ کچھ اجازتیں دی گئیں، جبکہ بعض کو بعد میں منظوری نہیں دی گئی‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ پیر کے بعد سے بعض مقامات سے پتھراؤ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور ایک واقعے میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی۔’’ایسے واقعات کی وجہ سے حکومت سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ جتنی جلد ممکن ہو، لوگوں کو اپنی سرگرمیاں درست اور پُرامن طریقے سے انجام دینے کی آزادی دی جائے‘‘۔
ایران میں موجود بھارتی شہریوں کی صورتحال کے بارے میں عمرعبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت وزارتِ خارجہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ ’’ہمارے زیادہ تر طلبہ اور دیگر لوگ جو ایران میں ہیں، انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ہمارے کچھ فائنل ایئر کے طلبہ جو اسپتالوں میں ہیں، وہ جانے پر رضامند نہیں ہیں‘‘۔انہوں نے ان سے سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی۔’’میں خلوصِ دل سے ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ سفارت خانے کی ہدایات، مشوروں اور سفارشات پر عمل کریں۔ اگر سفارت خانہ کہتا ہے کہ ہمیں کسی محفوظ مقام پر منتقل ہونا چاہیے، تو ہمیں محفوظ مقام پر جانا چاہیے‘‘۔
بین الاقوامی صورتحال کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قانون کے تحت کسی بھی ملک کو دوسرے ملک پر حملہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ ’’اگر روس نے یوکرین میں جو کیا اسے درست سمجھا جائے، اور جو دیگر ممالک نے کیا اسے بھی درست قرار دیا جائے، تو اگر بھارت کسی ہمسایہ ملک کے خلاف کارروائی کرنا چاہے تو اسے بھی درست سمجھا جائے گا‘‘۔ انہوں نے کہا اور ایسے جوازوں کے خلاف خبردار کیا۔
وزیر اعلیٰ نے اسرائیل، امریکہ اور ایران کے مابین جاری تنازع کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا’’اسرائیل اور امریکہ کا ایران پر حملہ کرنا غلط تھا۔ لیکن ایران کا ردِعمل، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک جیسے مقامات کو نشانہ بنانا بھی غلط تھا۔ رکنے کے بجائے جنگ مزید پھیل رہی ہے‘‘۔
عمرعبداللہ نے خطے میں کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان پہلے ہی تنازع میں ہیں۔ ’’جنگ کسی مسئلے کا علاج نہیں ہے‘‘۔ وزیر اعلیٰ نے کہا، اور مزید کہا کہ اگر کسی ملک کے لوگ اپنی حکومت سے ناخوش ہیں تو وہ ایک الگ داخلی معاملہ ہوتا ہے۔ (ایجنسیاں)










