جموں: جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری کا کہنا ہے کہ عارضی ملازموں کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے اسمبلی میں ان کے مسئلے کو اسی سال حل کرنے کے وعدہ پر یقین کرنا چاہئے۔
چودھری نے کہا کہ عارضی ملازموں کے کچھ لیڈر اس معاملے پر سیاست کررہے ہیں جس سے ملازموں کو دور رہنا چاہئے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔
عارضی ملازموں کے احتجاج کے متعلق پوچھے جانے پر انہوں نے کہا’’وزیر اعلیٰ نے جب اسمبلی میں کہا کہ عارضی ملازموں کے مسئلے کو اسی سال مرحلہ وار طریقے سے حل کیا جائے گا تو اب اس پر اور بحث نہیں ہونی چاہئے‘‘۔
ان کا کہناتھا’’عارضی ملازموں کے کچھ لیڈر ہیں، جن کو شاید کسی پارٹی میں شامل ہونا ہے، اس پر سیاست کر رہے ہیں، ملازموں کو اس سے دور رہنا چاہئے اور وزیر اعلیٰ کے وعدے پر یقین کرنا چاہئے‘‘۔
اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما کے خصوصی درجے سے متعلق ایک بیان کے بارے میں نائب وزیر اعلیٰ نے کہا’’سنیل شرما سے کہا جائے کہ آسام میں خصوصی درجہ ہے یا نہیں‘‘۔
اس دوران یوتھ سروس اور سپورٹس کے وزیر ستیش شرما کا کہنا ہے کہ عارضی ملازموں کا مسئلہ مرحلہ وار طریقے سے حل کیا جاے گا۔
انہوںنے کہا’’مجھے عارضی ملازموں کا سب سے زیادہ درد ہے کیونکہ میرے والد نے سب سے زیادہ عارضی ملازم لگائے ہیں‘‘۔
موصوف وزیر نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دینے کے دوران کیا۔
عارضی ملازموں کی مستقلی کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا’’عارضی ملازموں کے لئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اسمبلی میں کہا کہ ان کو مرحلہ وار طریقے سے مستقل کیا جائے گا، مجھے عارضی ملازموں کا سب سے زیادہ درد ہے کیوںکہ میرے والد نے سب سے زیادہ ۶ہزار عارضی ملازم لگائے ہیں‘‘۔
کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا’’کشمیری پنڈت ہمارے اپنے لوگ ہیں ہم چاہتے ہیں کہ وہ واپس آئیں، اچھے طریقے سے واپس آئیں، ہمیں پاکستان کی چالوں میں نہیں آنا چاہئے بلکہ مل کر ملک کو متحد کرنا چاہئے‘‘۔
ایک سوال کے جواب میں شرما نے کہا’’مجھے لگتا ہے کہ ریاستی درجہ ہم سے جلد بازی میں چھین لیا گیا اب وہ واپس کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کے لئے ایک بہانہ ڈھونڈتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا’’ہمیں لوگوں کی خدمت کے لئے چنا گیا ہے جو لوگ چاہتے ہیں وہ کیا جائے گا۔‘‘










