جموں: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو جموں میں اعلیٰ سطحی سکیورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کی جس میں آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی سمیت فوج، پولیس اور خفیہ اداروں کے سینئر افسران شریک ہوئے۔
اجلاس میں جموں و کشمیر کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
یہ اجلاس حالیہ انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے پس منظر میں منعقد ہوا جن میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کٹھوعہ، ادھم پور اور کشتواڑ اضلاع میں متعدد جھڑپوں کے بعد جیشِ محمد سے وابستہ چار پاکستانی دہشت گرد مارے گئے۔
یہ ایک ماہ کے اندر وزیر داخلہ کا دوسرا سکیورٹی جائزہ اجلاس ہے۔ اس سے قبل۸جنوری کو دہلی میں ہونے والے اجلاس میں دہشت گردی کے ڈھانچے اور مالی معاونت کے خلاف کارروائیاں مشن موڈ میں جاری رکھنے اور جموں و کشمیر کو جلد دہشت گردی سے پاک بنانے کے لیے تمام وسائل فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
اجلاس میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، مرکزی داخلہ سیکریٹری گووند موہن، ناردرن آرمی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پرتک شرما، وائٹ نائٹ کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پی کے مشرا، ڈی جی پی نلین پربھات، آئی بی چیف تپن ڈیکا، بی ایس ایف ڈائریکٹر جنرل پروین کمار اور سی آر پی ایف ڈی جی جی پی سنگھ سمیت اعلیٰ فوجی، سول اور خفیہ حکام نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں جاری انسداد دہشت گردی کارروائیوں، دراندازی روکنے کے نظام اور سرحد پار ڈرون سرگرمیوں سے نمٹنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا جبکہ خفیہ اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کی ممکنہ دراندازی کے خدشات پر بھی غور کیا گیا۔
اس سے قبل مرکزی داخلہ سیکریٹری نے بھی۱۴؍اور۱۵جنوری کو اپنے دورے کے دوران یہاں سکیورٹی جائزہ اجلاس منعقد کیا تھا۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو کٹھوعہ کے بین الاقوامی سرحدی علاقوں کا دورہ کرکے بارڈر مینجمنٹ اور سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
شاہ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں پے در پے دہشت گردانہ کارروائیوں اور دراندازی کی کوششوں نے سیکیورٹی ایجنسیوں کو مزید چوکس کر دیا ہے۔
ہیرا نگر سیکٹر میں واقع گُرنّم اور بوبیا کی اگلی چوکیوں پر پہنچ کر وزیر داخلہ نے بی ایس ایف اہلکاروں سے براہِ راست گفتگو کی، ان کے مسائل سنے اور سرحد کی نگرانی کے حوالے سے عملی بریفنگ حاصل کی۔
جوانوں نے انہیں حالیہ ہفتوں میں سرحد پار سے بڑھتی سرگرمیوں، اسمگلنگ نیٹ ورکس اور دراندازی کے بدلتے طریقوں سے متعلق آگاہ کیا، جبکہ امت شاہ نے انہیں یقین دلایا کہ حکومت بارڈر سیکیورٹی کو ہر سطح پر مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
وزیر داخلہ جمعرات کی شب جموں پہنچے تھے جہاں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بی جے پی کے سینئر رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا۔
جموں آمد کے فوراً بعد انہیں خطے کی مجموعی صورتحال، حالیہ انکاؤنٹرز اور انٹیلی جنس اطلاعات سے متعلق خفیہ اداروں نے بریف کیا۔
حکام کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں کٹھوعہ، ادھم پور اور کشتواڑ میں ہونے والے تقریباً ایک درجن تصادم آرائیوں میں جیشِ محمد کے چار انتہائی تربیت یافتہ پاکستانی دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی ایجنسیوں نے سرحدوں اور اندرونی علاقوں دونوں میں کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔
کٹھوعہ میں اپنے دورے کے دوران امت شاہ نے بوبیا میں بی ایس ایف اہلکاروں کے لیے چھ فلاحی اور بنیادی سہولیات سے متعلق منصوبوں کا افتتاح بھی کیا۔ ان منصوبوں کا مقصد سرحدی علاقوں میں تعینات فورسز کی رہائش، صحت، انفراسٹرکچر اور فیلڈ سروسز کو بہتر بنانا ہے تاکہ بارڈر پر تعینات جوانوں کو ہر سطح پر سہولت مل سکے۔
وزیر داخلہ نے اس موقع پر کہا کہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے یہ جوان ہی قوم کے حقیقی محافظ ہیں اور حکومت ان کے لیے تمام ممکنہ وسائل فراہم کرتی رہے گی۔
ہفتے کے روز وزیر داخلہ جموں و کشمیر کی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، سرحدی علاقوں میں بہبود کے منصوبوں اور سرمایہ کاری کے امکانات سے متعلق ایک جامع اجلاس کی بھی صدارت کریں گے۔ مختلف محکمے انہیں اپنی کارکردگی، جاری منصوبوں اور مستقبل کی ترجیحات سے متعلق تفصیلی رپورٹس پیش کریں گے۔










