سرینگر: جموں و کشمیر حکومت نے جمعرات کو بتایا کہ۲۰۲۴؍اور۲۰۲۵کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقے بھر میں کتے کے کاٹنے کے دو لاکھ سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سب سے زیادہ ایک لاکھ۲۶ہزار سے زائد کیس جموں صوبے میں درج کیے گئے۔
یہ بات وزیر صحت سکینہ ایتو نے اسمبلی میں نیشنل کانفرنس کے رکن مبارک گل کے سوال کے تحریری جواب میں بتائی۔
وزیر نے ضلع وار اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دو برس کے دوران مجموعی طور پر ۲لاکھ۶ہزار۴۶۰ کیس رپورٹ ہوئے جن میں۲۰۲۴میں۹۳ہزار۷۶۵؍اور۲۰۲۵میں ایک لاکھ ۱۲ہزار۶۹۵واقعات شامل ہیں۔جموں ڈویژن میں۲۰۲۴۔۲۰۲۵کے دوران ایک لاکھ۲۶ہزار۸۴۴کیس درج ہوئے، جن میں۲۰۲۴میں۵۴ہزار۸۶۳؍
صرف ضلع جموں میں۷۶ہزار۸۲۴کیس رپورٹ ہوئے، اس کے بعد کٹھوعہ میں۱۷ہزار۱۲۹؍اور ادھم پور میں۸۱۷۹کیس درج کیے گئے۔دیگر اضلاع میں راجوری میں۷۱۴۰، سانبہ میں۵۳۳۲، ڈوڈہ میں۴۱۱۱‘ ریاسی میں۲۷۵۲، پونچھ میں۲۰۲۳ رام بن میں۱۷۷۲؍اور کشتواڑ میں۱۵۸۲کیس رپورٹ ہوئے۔
کشمیر ڈویژن میں اسی مدت کے دوران۷۹ہزار۶۱۶ کیس سامنے آئے جن میں۲۰۲۴میں۳۸ہزار۹۰۲؍
سرینگر میں سب سے زیادہ۳۵ہزار۱۷۴ کیس رپورٹ ہوئے، اس کے بعد بارہمولہ میں۱۲یزار۸۸۲ ؍اور اننت ناگ میں ۱۰ ہزار۸۱۸کیس درج کیے گئے۔
بڈگام میں۵۵۲۳، کولگام میں۳۹۲۵‘ کپواڑہ میں۳۷۲۵، بانڈی پورہ میں۲۹۱۴‘ پلوامہ میں۲۱۹۷، گاندربل میں۱۶۹۵؍اور شوپیان میں۴۶۲ کیس رپورٹ ہوئے۔
وزیر نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز ‘ سرکاری میڈیکل کالجوں اور سکمز سے موصولہ ڈیٹا کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں اور حکومت بڑھتے واقعات سے نمٹنے اور علاج و روک تھام کی سہولیات مضبوط بنانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں میونسپل کارپوریشن کی حدود میں آوارہ کتوں کی آبادی میں اضافے کی کوئی رپورٹ نہیں، تاہم سری نگر میونسپل کارپوریشن نے۲۰۲۳ میں سائنسی سروے کے ذریعے اپنے دائرہ اختیار میں تقریباً۶۴ہزار۴۱۶آوارہ کتوں کا اندازہ لگایا۔
آوارہ کتوں کی انسانی انداز میں آبادی کنٹرول کرنے کیلئے ایس ایم سی آؤٹ سورسڈ اینیمل برتھ کنٹرول اور اینٹی ریبیز ویکسینیشن پروگرام نافذ کر رہی ہے۔
وزیر نے کہا کہ زیادہ شرحِ افزائش کے باعث موجودہ کوششوں کو چیلنج درپیش ہے، اسی لئے اہال چترہامہ میں تیسرا مرکز قائم کیا جا رہا ہے جس سے نس بندی اور ویکسینیشن کی صلاحیت تقریباً دس گنا بڑھنے کی توقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کارپوریشن پری آپریٹو، پوسٹ آپریٹو، کمیونٹی اور قرنطینہ مقاصد کیلئے مخصوص کینل مراکز بھی چلا رہی ہے۔
ایتو نے بتایا کہ سری نگر میونسپل کارپوریشن سپریم کورٹ ہند کی ہدایات اور قانونی فریم ورک پر عملدرآمد کیلئے سرگرم ہے، جن کے تحت آوارہ کتوں کی آبادی سے نمٹنے کیلئے نس بندی، ویکسینیشن اور انہیں دوبارہ اسی علاقے میں چھوڑنا ہی واحد قانونی طریقہ کار ہے۔










