جموں:جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے جمعرات کو۲ فروری کو پیش کیے گئے لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب پر تحریکِ تشکر منظور کر لی۔
تحریک شوکت حسین گنی نے پیش کی جبکہ ڈاکٹر رمیشور سنگھ نے اس کی تائید کی۔
ایوان میں قائد حزب اختلاف سنیل کمار شرما نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ تمام اراکین کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی حکومت سے بڑی توقعات وابستہ ہیں اور ان امیدوں کو سنجیدگی سے پورا کیا جانا چاہیے۔
انجینئر خورشید احمد نے مختلف شعبوں میں حکومت کے ترقیاتی کاموں کو سراہتے ہوئے سیلاب متاثرین کیلئے پانچ مرلہ زمین دینے کا مطالبہ کیا۔
میر سیف اللہ نے حکومتی کامیابیوں کو اجاگر کیا جبکہ راجیو جسروٹیا نے عوامی اہمیت کے مختلف مسائل اٹھائے۔ انہوں نے ڈیلی ویجرز، سیلاب متاثرین کے معاوضے اور اراکین اسمبلی کیلئے فنڈز کی فراہمی کا مسئلہ بھی اٹھایا۔
سجاد غنی لون نے نوجوانوں سے متعلق مسائل، خصوصاً ریزرویشن اور بے روزگاری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوان ان مسائل سے متاثر ہو رہے ہیں۔
نذیر احمد خان (گُریز) نے حکومتی اقدامات کو ترقی کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے ملک کی سالمیت کیلئے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
شبیر احمد کلّے نے بجٹ میں باغبانی شعبے کیلئے مزید فنڈز مختص کرنے اور اپنے حلقے کے بالائی علاقوں میں سڑکوں سے برف ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
پون کمار گپتا نے بے روزگاری اور سرکاری محکموں میں خالی آسامیوں کو بروقت پُر کرنے کا مسئلہ اٹھایا اور دو اسکل ڈیولپمنٹ مراکز کے قیام اور ڈیلی ویجرز و کنٹریکچول ملازمین کی کم از کم اجرت پر نظرثانی کی اپیل کی۔
تنویـر صادق نے تحریک کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے جموں و کشمیر بھر میں ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے دربار موو کی بحالی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے جموں شہر میں معاشی سرگرمیوں کو تقویت ملی اور اراکین کو فنڈز کی فراہمی میں کوئی امتیاز نہیں برتا گیا۔
طارق حمید قرہ نے نوجوانوں کے فائدے کیلئے ریزرویشن میں معقولیت لانے پر زور دیا جبکہ خورشید احمد شیخ نے کابینہ توسیع اور ہمدردانہ بنیادوں پر تقرریوں کا دیرینہ مطالبہ اٹھایا۔
بلونت سنگھ منکوٹیا اور سجاد غنی لون کی جانب سے پیش کردہ ترامیم کو صوتی ووٹ کے ذریعے مسترد کر دیا گیا جبکہ محمد یوسف راتھر (ترگامی) نے وزیر اعلیٰ کی یقین دہانی پر اپنی ترمیم واپس لے لی۔بعد ازاں تحریکِ تشکر صوتی ووٹ کے ذریعے منظور کر لی گئی۔










