جموں: جموں صوبے کے ادھمپور اور کشتواڑ اضلاع میں سکیورٹی فورسز نے تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے ۔حکام کاکہنا ہے کہ کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں انسداد دہشت گردی کا آپریشن اب بھی جاری ہے جہاں مزید دہشت گردوں کی موجودگی کا امکان ہے ۔
فوج کی وائٹ نائٹ کور نے ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ میں کہا’’جموں و کشمیر پولیس کی طرف سے فراہم کردہ مخصوص انٹلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر ،سی آئی ایف ڈیلٹا، وائٹ نائٹ کور کے دستوں نے جوفر جنگل بسنت گڑھ (جموں وکشمیر) کے عمومی علاقے میں ایک مرکوز مشترکہ انسداد دہشت گردی آپریشن کی منصوبہ بندی کی اور اسے انجام دیا‘‘۔
فوج نے کہا’’یہ کارروائی جموں وکشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کے تحت انجام دی گئی جنہوں نے گھیرائو کو مضبوط بنایا اور موثرعلاقائی نگرانی کو یقینی بنایا تاکہ دہشت گردوں کو فرار ہونے کا کوئی موقع نہ دیا جائے‘‘۔
پوسٹ میں کہاگیا’’گذشتہ روز دہشت گردوں کے ساتھ رابطہ قائم ہوا اور اس کے بعد سے انہیں مسلسل رابطے میں رکھا گیا اور دو دہشت گردوں کو کامیابی کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا‘‘۔انہوں نے کہا’’یہ آپریشن بین الادارہ جاتی بے مثال ہم آہنگی، حربی مہارت اور اعلیٰ درجے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر رہا‘‘۔
فوج نے پوسٹ میں مزید کہا’’آپریشن کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا اور علاقہ بدستور نگرانی میں ہے۔‘‘
ادھر ضلع کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں بدھ کی شام سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے مابین شدید گولیوں کا تبادلہ ہوا۔ معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی فائرنگ میں ایک دہشت گرد مارا گیا جس کی شناخت اور تنظیمی وابستگی کے بارے میں جانچ پڑتال شروع کی گئی ہے۔
دفاعی ذرائع کے مطابق بدھ کی شام تقریباً۵ بجکر۴۵منٹ پر چھاترو علاقے میں فرار دہشت گردوں کے ساتھ دوبارہ تصادم اس وقت قائم ہوا جب مشترکہ سیکورٹی دستے گھنے جنگلات اور دشوار گزار پہاڑی راستوں میں سرچ آپریشن کو مزید تیز کر رہے تھے۔
فوج کی وائٹ نائٹ کور نے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا’’کشتواڑ میں دہشت گردوں کی تلاش اور ان کے خاتمے کے لیے جاری کارروائیوں کے دوران کئی مقامات پر رابطہ قائم ہوا ہے۔ گھنے جنگلات اور انتہائی مشکل زمینی حالات کے باوجود آج دوبارہ دہشت گردوں کے ایک گروہ کے ساتھ آمنا سامنا ہوا جس دوران ایک دہشت گرد ہلاک ہوا ہے۔ گھنے جنگلات میں آپریشن جاری ہے‘‘۔
اس سے قبل منگل کی شام علاقے میں۲پیرا اسپیشل فورسز اور۱۷آر آر سمیت مختلف سیکورٹی اداروں نے ایک بڑا مشترکہ سرچ آپریشن شروع کیا تھا، کیونکہ اطلاعات تھیں کہ دہشت گردوں کا ایک گروہ جنگل میں روپوش ہے اور فرار ہونے کی کوشش کر سکتا ہے۔ فوجی ذرائع نے بتایا کہ اس پورے علاقے میں مزید دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، اور اسی وجہ سے محاصرہ مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
سیکورٹی فورسز نے مقامی آبادی سے اپیل کی ہے کہ آپریشن مکمل ہونے تک محفوظ فاصلے پر رہیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوراً اطلاع دیں۔
واضح رہے کہ کشتواڑ کے گھنے جنگلات میں گزشتہ تین ہفتوں سے دہشت گرد مخالف آپریشن جاری ہے اور فورسز نے وسیع و عریض جنگلی علاقے کو پوری طرح سے سیل کیا ہوا ہے جبکہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے جنگلی علاقے پر نظر گزر رکھی جارہی ہے تاکہ دہشت گردوں کو فرار ہونے کا کوئی موقع فراہم نہ ہو سکے۔










