جموں: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ وادی میں امن و قانون کی صورتحال میں بہتری کے پیش نظر اس وقت کشمیر مہاجرین کے لیے امدادی رجسٹریشن کے تحت نئے کیسز کو قبول نہیں کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کشمیری مہاجرین کے لیے وزیر اعظم کا واپسی و بازآبادکاری پیکیج ان کی رضاکارانہ، محفوظ اور باعزت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے، جس کے تحت رہائش، روزگار اور دیگر معاون اقدامات کے ذریعے سماجی و معاشی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔
قانون ساز اسمبلی میں نیشنل کانفرنس کے رکن مبارک گل کے تحریری سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا’’کشمیر مہاجرین امدادی رجسٹریشن کے تحت اس وقت نئے کیسز درج نہیں کیے جا رہے ہیں۔ اس معاملے پر۱۲جولائی۲۰۲۳کو چیف سیکریٹری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں غور کیا گیا، جہاں یہ مشاہدہ کیا گیا کہ وادی میں بہتر امن و قانون کی صورتحال اس مرحلے پر نئی رجسٹریشن کا جواز فراہم نہیں کرتی‘‘۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ مہاجرین کو دی جانے والی موجودہ امداد میں اضافے کی تجویز، افراطِ زر اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے، یونین ٹیریٹری کی سطح پر جانچی جا چکی ہے اور اس معاملے کو وزارتِ داخلہ کے ساتھ اٹھایا گیا ہے، جو اس پر حتمی فیصلہ کرنے کی مجاز اتھارٹی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ کشمیری مہاجرین کے لیے جامع وزیر اعظم واپسی و بازآبادکاری پیکیج کا اعلان۲۰۰۹میں 1,618.40 کروڑ روپے کے مالی تخمینے کے ساتھ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم مہاجر برادری کی روزی روٹی، رہائش، تعلیم اور مالی تحفظ کی بحالی کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتی ہے۔
اس اسکیم کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس میں مہاجر خاندانوں کے لیے رہائشی سہولت، پیکیج کے تحت مقررہ ملازمین کے لیے عبوری رہائش گاہوں کی تعمیر، رجسٹرڈ مہاجر خاندانوں کو ماہانہ نقد امداد کی فراہمی، طلبہ کے لیے وظائف، روزگار کے مواقع، زراعت اور باغبانی سے وابستہ افراد کے لیے معاونت، اور قرضوں پر سود کی معافی شامل ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ واپسی اور بازآبادکاری کو فروغ دینے کے لیے مرکز نے۲۰۰۹میں وزیر اعظم کے بازآبادکاری پیکیج کے تحت۳۰۰۰؍اسامیاں منظور کیں، جبکہ۲۰۱۵میں وزیر اعظم کے ترقیاتی پیکیج کے تحت مزید۳ہزاراسامیاں دی گئیں، جس کے بعد مہاجر نوجوانوں کے لیے مختص اسامیوں کی مجموعی تعداد۶ہزارہو گئی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’منظور شدہ۶ہزار اسامیوں کے مقابلے میں اب تک۵ہزار۸۹۶ ؍امیدواروں کو تقرری کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں، جو تقریباً 98.26 فیصد تکمیل کو ظاہر کرتا ہے۔ باقی۴۰۱؍اسامیاں بھرتی اور انتخاب کے مختلف مراحل میں ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ روزگار کا یہ جزو مہاجر نوجوانوں کے لیے معاشی تحفظ اور اعتماد سازی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
عبوری رہائش کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دسمبر۲۰۱۵میں مرکز نے وزیر اعظم پیکیج کے تحت مقررہ مہاجر سرکاری ملازمین کے لیے وادی کے مختلف اضلاع میں۶ہزارعبوری رہائشی یونٹس کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔
عمرعبداللہ نے بتایا کہ ان۶ہزارفلیٹس میں سے دسمبر۲۰۲۵تک۴۰۹۶مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ۱۹۰۴یونٹس زیر تعمیر ہیں اور ان کے مالی سال۲۰۲۶۔۲۷کے دوران مکمل ہونے کی توقع ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’مکمل شدہ رہائشی یونٹس میں سے۳۲۵۰فلیٹس پہلے ہی اہل وزیر اعظم پیکیج ملازمین کو الاٹ کیے جا چکے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ رہائشی کمپلیکس بنیادی شہری سہولیات اور سکیورٹی انتظامات کے ساتھ تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ ایک مستحکم اور محفوظ رہائشی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
عمرعبداللہ نے واضح کیا کہ کشمیر وادی میں کسی اضافی مہاجر عبوری کیمپ کے قیام کی فی الحال کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے، کیونکہ۲۰مقامات پر تعمیر کیے جا رہے۶ہزاررہائشی یونٹس مہاجر ملازمین کی رہائشی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔










