سرینگر: اسلام آباد نے برسوں میں ایسی سفارتی اور سیاسی ہلچل نہیں دیکھی۔ پہلگام دہشت گرد حملے اور آپریشن سندور کے بعد بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ(آئی ڈبلیو ٹی) عارضی طور پر معطل کیے جانے کے بعد پاکستان مسلسل سفیروں کو طلب کر رہا ہے، اقوامِ متحدہ کو فوری خطوط لکھ رہا ہے، عالمی دارالحکومتوں میں وفود بھیج رہا ہے اور ہر ممکن بین الاقوامی فورم کو متحرک کر رہا ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق محض نو ماہ کے اندر آٹھ اعلیٰ سطحی غیر ملکی دورے، آٹھ بڑی بین الاقوامی کانفرنسیں، دس سے زائد قانونی کارروائیاں اور کم از کم سات داخلی سیاسی تحرکات۔ پیغام صاف ہے:بھارت نے پاکستان کو اس کے سب سے حساس دباؤ کے نکتے پر ضرب لگائی ہے۔
۲۳ ؍اپریل۲۰۲۵کا فیصلہ‘۱۹۶۰کے بعد پہلی بار—سندھ طاس معاہدے کے مستقبل کو پاکستان کی جانب سے ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی کے استعمال سے جوڑتا ہے۔ پیغام دوٹوک تھا:غیر معمولی دشمنی کے ساتھ معمول کی شراکت داری ممکن نہیں۔
پاکستان کے لیے یہ جھٹکا فوری اور گہرا تھا۔ ملک تقریباً مکمل طور پر دریائے سندھ کے نظام پر منحصر ہے۔ اس کی۸۰سے۹۰فیصد زراعت انہی پانیوں پر چلتی ہے۔ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بمشکل۳۰دن کے بہاؤ کے برابر ہے۔ اس کے دونوں بڑے ڈیم—تربیلا اور منگلا—پہلے ہی ڈیڈ اسٹوریج کے قریب ہیں۔ اسٹریٹجک اعتبار سے یہ صرف ماحولیاتی کمزوری نہیں بلکہ معاشی اور سیاسی ایڑیِ آشیل ہے۔
یہی پس منظر اسلام آباد کے قریباً گھبراہٹ زدہ ردِعمل کی وضاحت کرتا ہے۔ چند ہی دنوں میں پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے پانی کو’اہم قومی مفاد‘قرار دیا اور خبردار کیا کہ کسی بھی خلل کو’اعلانِ جنگ‘ سمجھا جائے گا۔ پارلیمان میں قراردادیں منظور ہوئیں۔ سینیٹ کمیٹیوں نے تشویش ناک بیانات دیے۔ اسلام آباد میں موجود پورے سفارتی عملے کو ہنگامی بریفنگز کے لیے طلب کیا گیا جہاں مبینہ ’بھارتی خلاف ورزیوں‘اور’غیر معمولی دریائی بہاؤ‘ کے شواہد پیش کیے گئے۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان نے مسئلے کو ’بین الاقوامی‘ بنانے کی ہمہ جہت مہم شروع کی۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی، او آئی سی، شنگھائی تعاون تنظیم، موسمیات اور گلیشیئر کانفرنسیں، ورلڈ بینک—کوئی فورم نہیں چھوڑا گیا۔’پانی کو ہتھیار بنانا‘ جیسے عنوانات کے تحت خصوصی تقاریب ہوئیں، جبکہ کثیرالجہتی اداروں کو خطوط میں ’انسانی المیے‘ اور’۲۴کروڑ جانوں کے خطرے‘کے انتباہات بھیجے گئے۔
اسی دوران اسلام آباد نے دی ہیگ اور دیگر ثالثی فورمز میں قانونی کارروائیاں تیز کر دیں، امید یہ کہ عدالتی دباؤ وہ کر دکھائے جو سفارت کاری نہ کر سکی۔ مقصد واضح ہے:بھارت کو فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا جائے اور پاکستان اپنے رویے میں بنیادی تبدیلی کے بغیر معاملات کو معمول پر لے آئے۔ یہی بنیادی تضاد ہے۔
بھارت کا مؤقف یہ نہیں کہ معاہدہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اسے معطل رکھا گیا ہے، اور ایک واضح سیاسی شرط کے ساتھ:پاکستان کو قابلِ اعتبار اور ناقابلِ واپسی طور پر اپنے دہشت گرد ڈھانچے کو ختم کرنا ہوگا اور دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے آلے کے طور پر ترک کرنا ہوگا۔ یہ مطالبہ خلا میں پیدا نہیں ہوا؛ یہ۱۹۹۳کے ممبئی دھماکوں سے لے کر۲۶/۱۱‘ اُوڑی، نگروٹہ، پٹھانکوٹ، پلوامہ اور اب پہلگام تک دہائیوں پر محیط حملوں کے تناظر میں ہے۔
اس کے برعکس، پاکستان میں لشکرِ طیبہ سے منسلک محاذوں کی عوامی ریلیاں، جیشِ محمد کی کھلی بھرتیاں، حتیٰ کہ خواتین ونگ سمیت نئی جہادی بریگیڈز کے اعلانات سامنے آئے—کچھ تو آپریشن سندور کے بعد۔ تضاد نمایاں ہے:اسلام آباد بھارت سے سخت معاہداتی پابندی کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ اپنی سرزمین پر عالمی سطح پر نامزد دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کو کھلا چھوڑتا ہے۔
اس بنیادی مسئلے سے نمٹنے کے بجائے پاکستان نے بیانیاتی جنگ پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس کے سفارت کار اب باقاعدگی سے دعویٰ کرتے ہیں کہ بھارت نے معاہدہ ’توڑ‘ دیا یا’چھوڑ‘ دیا ہے۔ مگر بھارت کا قانونی و سیاسی مؤقف مختلف ہے: معاہدہ ختم نہیں ہوا، اس کا نفاذ معطل ہے، اور اس کی بحالی پاکستان کے طرزِ عمل میں تبدیلی سے مشروط ہے۔
پاکستان کے ردِعمل کی شدت اس کی بے چینی کی گہرائی ظاہر کرتی ہے۔ یہ معمول کی سفارتی اشارہ بازی نہیں۔ اعداد خود بولتے ہیں:آٹھ بڑے غیر ملکی دورے، آٹھ بین الاقوامی کانفرنسیں، دس سے زائد قانونی و نیم قانونی کارروائیاں، اور اندرونِ ملک قراردادوں و ہنگامی اجلاسوں کی قطار—سب ایک ہی مسئلے پر۔
اسٹریٹجک طور پر بھارت کے قدم نے بحث کی شرائط بدل دی ہیں۔ دہائیوں تک پاکستان یہ سمجھتا رہا کہ سندھ طاس معاہدہ ناقابلِ مساس ہے اور دوطرفہ تعلقات کی مجموعی کیفیت سے الگ تھلگ ہے۔ یہ مفروضہ اب ختم ہو چکا ہے۔ پانی کو دہشت گردی سے جوڑ دیا گیا ہے، اور اس ربط نے انحصار کی غیر متوازن حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
آخرکار، یہ محض دریاؤں اور معاہدوں کا تنازع نہیں رہا۔ یہ دباؤ، جوابدہی اور ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی کی قیمت کا سوال ہے۔ پاکستان کی سفارتی یلغار جتنی بلند آواز ہے، اتنی ہی اس کی کمزوری کا اعتراف بھی۔ جب بھارت نے سندھ کا لیور دبایا تو اس نے صرف ایک قانونی تنازع نہیں چھیڑا—اس نے ایک اسٹریٹجک رگ پر ہاتھ رکھا جسے اسلام آباد نظرانداز بھی نہیں کر سکتا اور فی الحال اس سے نکلنے کا راستہ بھی نہیں جانتا۔










